کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ جمعۃ المبارک ہمارے گاؤں والوں پر فرض ہے کہ نہیں؟ ہمارا گاؤں ۲۱۱ گھرانوں پر مشتمل ہے، ضررویاتِ زندگی کی تمام اشیاء گاؤں میں موجود ہیں ، چار دکانیں ہیں، روڈ ہمارے گاؤں سے ۴۰۰ کلومیٹر کے فاصلے پر ہے، نزدیک ایک دیہات جو کہ ۱۰۰ گھرانوں پر مشتمل ہے اور یہ بھی ہمارے ساتھ ہے، گاؤں کے لوگوں کی نماز میں موجودگی ۵۰ سے ۶۰ افراد باجماعت نماز ادا کرتے ہیں،، گاؤں میں نمازیوں کی جملہ طور پر کہنا یہ ہے کہ جمعہ پڑھا جائے ، یاد رہے کہ اس گاؤں میں جمعہ ایک بار شروع ہوکر کافی عرصہ جاری رہا، پھر کچھ علماءِ کرام کے کہنے پر بند کر دیا گیا ، قرآن وحدیث کی روشنی میں ہمیں مطلع فرمائیں کہ ہمارے گاؤں میں جمعہ جائز ہے یا نہیں؟ والسلام!
اصل یہ ہے کہ گاؤں میں جمعہ صحیح نہیں اور شہر و قصبات میں صحیح ہے ، قصبہ کی تعریف ہمارے عرف میں یہ ہے کہ آبادی چار ہزار کے قریب یا اس سے زیادہ ہو اور ایسا بازار موجود ہو جس میں دکانیں چالیس ، پچاس متصل ہوں اور بازار روزانہ لگتا ہو اور بازار میں ضروریات روزمرّہ کی ملتی ہوں ،مثلاً جوتہ کی دوکان، کپڑے کی، عطّارکی، بزّاز کی بھی، غلّہ کی بھی، اور دودھ کی بھی اور وہاں ڈاکٹر یا حکیم بھی ہو ، معمار و مستری بھی ہوں، وغیرہ وغیرہ اور وہاں ڈاک خانہ بھی ہو اور پولیس کا تھانہ یا چوکی بھی ہو اور اس میں مختلف محلے مختلف ناموں سے موسوم ہوں پس جس بستی میں یہ شرائط موجود ہونگی وہاں جمعہ صحیح ہوگا ورنہ صحیح نہ ہوگا۔ (ماخوذ از امداد الأحکام: ۱/۷۵۶) ۔
جبکہ صورتِ مسئولہ میں مذکور بستی میں یہ شرائط نہیں پائی جاتیں، اس لیے اس میں نمازِ جمعہ کی ادائیگی شرعاً جائز نہیں، اس سے احتراز لازم ہے ، ورنہ ظہر کے فرض کا ترک اور نوافل کی جماعت کا اہتمام لازم آئےگاِ جو بلاشبہ ممنوع اور گناہ ہیں۔
ففی حاشية ابن عابدين: عن أبي حنيفة أنه بلدة كبيرة فيها سكك و أسواق و لها رساتيق و فيها وال يقدر على إنصاف المظلوم من الظالم بحشمته و علمه أو علم غيره ، يرجع الناس إليه فيما يقع من الحوادث و هذا هو الأصح اهـ(2/ 137)۔
و فی الهندية ایضاً: و من لا تجب عليهم الجمعة من أهل القرى و البوادي لهم أن يصلوا الظهر بجماعة يوم الجمعة بأذان و إقامة اھ (1/ 145)۔
و فی حاشية ابن عابدين: ثم ظاهر رواية أصحابنا لا تجب إلا على من يسكن المصر أو ما يتصل به فلا تجب على أهل السواد و لو قريبا و هذا أصح ما قيل فيه اهـ (2/ 153)۔