السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
مجھے یہ معلوم کرنا تھا کہ میں نے پانچ تولہ سونا کسی کو دیا ہے انہوں نے بینک میں جمع کرا کے قرض لیا ہے، اس پر ایک سال سے زائد ٹائم ہوگیا ہے، میرے پاس کچھ رقم اورسوا دو تولہ سونا ہے، کیا اس صورت میں زکوٰۃ ادا کرنی ہوگی؟
صورتِ مسئولہ میں سائل کے پاس اگر چہ ساڑھے سات تولہ سونا موجود نہیں ، لیکن چونکہ اس کے پاس نقد رقم موجود ہے، جس کو سونے کے ساتھ ملانے سے قیمت کے اعتبار سے چاندی کا نصاب مکمل ہوجاتا ہے، لہذا قمری سال کے اختتام پر مذکور سوا سات تولہ سونا اور نقدی ملا کر مجموعی مالیت کا ڈھائی فیصد بطور زکوٰۃ ادا کرنا سائل پر لازم ہے۔
کمافی الدرالمختار: (وقيمة العرض) للتجارة (تضم إلى الثمنين) لأن الكل للتجارة وضعا وجعلا (و) يضم (الذهب إلى الفضة) وعكسه بجامع الثمنية (قيمة) الخ (2/303)۔
وفی الھندیة: وتضم قيمة العروض إلى الثمنين والذهب إلى الفضة قيمة كذا في الكنز. الخ (1/179)۔