کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ جس شخص کے پاس اتنا علم ہو کہ وہ اجتہاد کر سکے، جیسے سلفی لوگ اپنے آپ کو مجتہد کہتے ہیں، اب مسئلہ یہ ہے کہ ان علماء کے لیے اجتہاد کرنا جائز ہے یا نہیں؟
حضرات فقہاءِ کرام نے مجتہد بننے کے لیے متعدد شرائط بیان کی ہیں کہ وہ مسلمان، عاقل، بالغ ہو ، اس کی امانت و دیانت اہلِ عصر مستند علماءِ کرام کے نزدیک مسلم و قابلِ اعتماد ہو ، اسبابِ فسق اور خلافِ مروت امور سے بچنے والا ہو ، تقویٰ و طہارت اور اتباعِ شریعت میں اعلیٰ درجہ پر فائز ہو ، سنجیدہ و مضبوط فکر کا حامل احوالِ زمانہ اور عرف سے ممارست رکھتا ہو ، فہم و بصیرت میں کامل ہو ،ادلۂ شرعیہ قرآن، سنت اجماع اور ان کی متعلقہ تفصیل کے بارے میں مکمل معرفت رکھتا ہو ، وجوہِ استدلال عام، خاص، مشترک، مؤول اور حقیقت، مجاز، صریح، کنایہ اور دیگر وجوہِ استدلال کے بارے میں پوری معلومات رکھتا ہو ، حدیث کے متعلق متن، سند اور احوالِ رواۃ و غیرہم کے لحاظ سے واقفیت رکھتا ہو، علومِ قرآن و حدیث پر اس کو مکمل عبور حاصل ہو، ناسخ و منسوخ کی پہچان رکھتا ہو ، صرف، نحو، لغت اور دیگر علوم مثل معانی و بدیع میں ماہر ہو ، اجماع کے متعلق مکمل معلومات رکھتا ہو ، اسی طرح قیاس کے متعلق اس کی شرائط، اقسام اور احکام کے لحاظ سے اس کو مکمل واقفیت حاصل ہو ، اور زمانہ نزولِ وحی کے حالات سمجھنے پر عبور رکھنے کو شرط قرار دیا ہے اور جو شخص ان صفات کا حامل نہ ہو، وہ قطعاً مجتہد کہلانے کا مستحق نہیں۔
و فی حاشية ابن عابدين: تحت (قوله: والاجتهاد شرط الأولوية) (إلی قوله) وشروطه الإسلام والعقل والبلوغ وكونه فقيه النفس أي شديد الفهم بالطبع وعلمه باللغة العربية وكونه حاويا لكتاب الله تعالى فيما يتعلق بالأحكام وعالما بالحديث متنا وسندا وناسخا ومنسوخا وبالقياس وهذه الشرائط في المجتهد المطلق الذي يفتي في جميع الأحكام وأما المجتهد في حكم دون حكم فعليه معرفة ما يتعلق بذلك الحكم مثلا كالاجتهاد في حكم متعلق بالصلاة لا يتوقف على معرفة جميع ما يتعلق بالنكاح اهـ(5/ 365)۔