احوال قبر

قبر - برزخ میں جسمِ خاکی اور روح کے درمیان تعلق کی نوعیت

فتوی نمبر :
60793
| تاریخ :
2004-04-15
عقائد / قیامت و آخرت / احوال قبر

قبر - برزخ میں جسمِ خاکی اور روح کے درمیان تعلق کی نوعیت

کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ جب آدمی قبر میں رکھا جاتا ہے تو حدیث شریف کے مطابق مردہ میں دوبارہ روح ڈالی جاتی ہے تاکہ سوال و جواب ہو جائے ، دوسری احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ نبیوں اور شہیدوں کے علاوہ اکثر لوگوں کے جسم گھل سڑ کر ختم ہوجاتے ہیں، ریڑھ کی ہڈی کے علاوہ کوئی چیز باقی نہیں بچتی، تو وضاحت طلب بات یہ ہے کہ جب روح کو قبر میں مردے میں دوبارہ ڈالا جاتا ہے تو پھر کس وقت نکالا جاتا ہے قیامت سے پہلےیا بعد؟کیونکہ دوسری احادیث سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ عالم برزخ میں روح جسم الگ الگ ہوتے ہیں وضاحت سے بتائیں ،عین نواز ہوگی۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

قبر میں انسانی روح کا دوبارہ اس جسمِ عنصری میں داخل ہونا مختلف فیہ ہے، البتہ قبر یعنی برزخی زندگی میں روح کا جسمِ عنصری کے ساتھ تعلق ہونا اتفاقی اَمر ہے اور پھر یہ تعلق اتنا ہوتاہے کہ اس کے ذریعہ وہ وہاں کے نِعم وآلام کو محسوس کرتا ہے، البتہ تعلق کی کمی بیشی میں تفاوت ہے بعض کا تعلق ارواح کے ساتھ قوی ہوتا ہے جیسا انبیاء و شہداء کی ارواح کا تعلق اپنی اجسام کے ساتھ ،اور اسی وجہ سے ان کے اجسام تک محفوظ رہتے ہیں اور قرآن و حدیث میں ان پر ’’حی‘‘ کا اطلاق ہوا ہے اور دوسرے اموات کا اپنی ارواح کے ساتھ تعلق کمزور ہوتا ہے اس وجہ سے ان کے اجسام سلامت نہیں رہتے، بلکہ گل سڑکر مٹی ہو جاتے ہیں۔

مأخَذُ الفَتوی

ففی مشكاة المصابيح: عن أبي هريرة قال قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم - : «إذا قبر الميت أتاه ملكان أسودان أزرقان يقال لأحدهما المنكر والآخر النكير فيقولان ما كنت تقول في هذا الرجل فيقول ما كان يقول هو عبد الله ورسوله أشهد أن لا إله إلا الله وأن محمدا عبده ورسوله فيقولان قد كنا نعلم أنك تقول هذا ثم يفسح له في قبره سبعون ذراعا في سبعين ثم ينور له فيه ثم يقال له نم فيقول أرجع إلى أهلي فأخبرهم فيقولان نم كنومة العروس الذي لا يوقظه إلا أحب أهله إليه حتى يبعثه الله من مضجعه ذلك وإن كان منافقا قال سمعت الناس يقولون فقلت مثله لا أدري فيقولان قد كنا نعلم أنك تقول ذلك فيقال للأرض التئمي عليه فتلتئم عليه فتختلف فيها أضلاعه فلا يزال فيها معذبا حتى يبعثه الله من مضجعه ذلك». رواه الترمذي اھ(1/ 46)۔
و فی مرقاة المفاتيح: تحت ھذا الحدیث: (عن أبي هريرة قال: قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم -: (إذا قبر الميت) ، أي: دفن وهو قيد غالبي وإلا فالسؤال يشمل الأموات جميعها، حتى أن من مات وأكلته السباع فإن الله تبارك وتعالى يعلق روحه الذي فارقه بجزئه الأصلي الباقي من أول عمره إلى آخره المستمر على حاله حالتي النمو والذبول الذي تتعلق به الروح أولا فيحيا ويحيا بحياته سائر أجزاء البدن ليسأل فيثاب أو يعذب، ولا يستبعد ذلك فإن الله تعالى عالم بالجزئيات والكليات كلها حسب ما هي عليها، فيعلم الأجزاء بتفاصيلها ويعلم مواقعها ومحالها، ويميز بين ما هو أصل وفصل، ويقدر على تعليق الروح بالجزء الأصلي منها حالة الانفراد وتعليقه به حال الاجتماع، فإن البنية عندنا ليست شرطا للحياة، بل لا يستبعد تعليق ذلك الروح الشخصي الواحد بكل واحد من تلك الأجزاء المتفرقة في المشارق و المغارب، فإن تعلقه بتلك الأجزاء ليس على سبيل الحلول حتى يمنع الحلول في جزء آخر. (1/ 209)۔
و فی فيض القدير: في شرح الصدور: قال العلماء: عذاب القبر هو عذاب البرزخ أضيف إلى القبر لأنه الغالب فكل ميت أريد تعذيبه عذب، قبر أم لا و محله الروح و البدن جميعا باتفاق أهل السنة الخ (4/ 309)۔
و فی منار القاري شرح مختصر صحيح البخاري: عذاب القبر هو عذاب البرزخ، أضيف إلى القبر لأنه الغالب، وإلا فكل ميت إذا أراد الله تعذيبه نَالَهُ ما أراد به ، قُبِرَ أو لم يُقْبَر، ولو صلب أو غرّق في البحرأو أكلته الدواب أو أحرق حتى صار رماداً و ذري في الريح، ومحله الروح والبدن جميعاً، باتفاق أهل السنة، وكذا القول في النعيم، كما أفاده السيوطي. ثانياًً: أنه يستحب التعوذ من عذاب القبر في آخر كل صلاة بعد التشهد، وقبل السلام، لقول عائشة - رضي الله عنها - في حديث الباب: " فما رأيت رسول الله - صلى الله عليه وسلم - بعدُ صلّى صلاةً إلاّ تعوذ من عذاب القبر ".(2/ 405)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 60793کی تصدیق کریں
0     1092
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • عقیدہ حیات النبی ، کیا نبی اکرم ﷺ روضہ مبارک میں زندہ ہیں؟

    یونیکوڈ   اسکین   احوال قبر 0
  • قبر میں حضورؑ کی شبیہ آتی ہے یا فقط سوال ہوتا ہے؟

    یونیکوڈ   احوال قبر 0
  • قبر - برزخ میں جسمِ خاکی اور روح کے درمیان تعلق کی نوعیت

    یونیکوڈ   احوال قبر 0
  • مردوں کا زندہ لوگوں کی آواز سننا - سلام کا جواب دینا

    یونیکوڈ   احوال قبر 0
  • روزہ میں انجیکشن یا ڈرپ لگوانا

    یونیکوڈ   احوال قبر 0
  • عذابِ قبر اور منکر نکیر کا سوال کرنا برحق ہے یا نہیں؟

    یونیکوڈ   احوال قبر 0
  • اگر عورت قبر پر جائے تو کیا وہ مردوں کو بغیر کپڑوں کے نظر آتی ہے؟

    یونیکوڈ   احوال قبر 0
  • آپ علیہ السلام سے متعلق قبر مبارک میں دنیاوی حیات جیسی حیات کا عقیدہ رکھنا

    یونیکوڈ   احوال قبر 0
  • جزاء وسزا کا فیصلہ قیامت کے دن ہوگا تو پھر عذابِ قبر کیوں؟

    یونیکوڈ   احوال قبر 0
  • میری بیٹی مرد حضرات کی طرح رمضان میں تراویح سناسکتی ہے؟

    یونیکوڈ   احوال قبر 0
  • زندگی میں قبر کے لیے جگہ خریدنا

    یونیکوڈ   احوال قبر 0
  • قبر پر جاکر تین مرتبہ ہاتھ اٹھا کر دعا مانگنا

    یونیکوڈ   احوال قبر 0
  • حضور علیہ السلام سے متعلق عام انسانوں سے بڑھ کر دیکھنے یا سننے کا عقیدہ رکھنا

    یونیکوڈ   احوال قبر 0
  • شیخ عمر بکری کا نظریہ اور عقیدۂ عذابِ قبر

    یونیکوڈ   احوال قبر 0
  • عذابِ قبر کا اثبات اور عالمِ برزخ سے مراد

    یونیکوڈ   احوال قبر 0
  • منکرین عذابِ قبر سے متعلق شرعی نقطہ نظر

    یونیکوڈ   احوال قبر 0
  • کسی بزرگ کا انتقال کے بعد لوگوں کے پکارنے پر ان کی مدد کےلۓ حاضر ہونا-اور اس کا عقیدہ رکھنا

    یونیکوڈ   احوال قبر 0
  • مزاروں کے پاس سے گزرتے ہوئے انھیں جھک کر سلام کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   احوال قبر 0
  • کیا رمضان میں انتقال کرنے والا شخص عذابِ قبر سے محفوظ رہے گا؟

    یونیکوڈ   احوال قبر 0
Related Topics متعلقه موضوعات