کیا فرماتے ہیں علمائے دین اور مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ:
(۱) اگر کوئی عورت اپنی بالغہ غیر منکوحہ بیٹی کے نام سے زیورات خریدے اور ان کی مقدار نصاب تک پہنچتی ہو تو اس صورت میں ان زیورات کی زکوٰۃ لڑکی پر واجب ہوگی یا اس کی ماں پر؟ جب کہ وہ لڑکی کماتی نہیں ہے اور یہ کہ اس کی ماں کیلئے ان زیورات کا بیچنا یا انہیں استعمال کرنا جائز ہے یا نہیں جبکہ اس نے ان زیورات کو لڑکی کے نام سے خریدا ہے۔
(۲) کسی عورت کے پاس نصاب سے زیادہ مقدار میں زیورات موجود ہو ں ، جن کی زکوٰۃ بآسانی ادا کرنے پر قادر نہ ہو ، تو اگر وہ اپنی بالغ یا نابالغ اولاد کے نام وہ زیورات کردیں ، اس طور پر کہ ان میں سے ہر ایک کے حصہ میں نصاب سے کم مقدار میں آئے، تو آیا ایسا کرنا شرعاً جائز ہے یا نہیں؟ اور اگر وہ ایسا کریں تو ان زیورات پر ملکیت کس کی ہوگی؟ اور اس عورت کیلئے انہیں استعمال کرنا جائز ہوگا یا نہیں؟
(۱) صرف نام کرنے سے وہ لڑکی ان زیورات کی مالکہ نہیں بنی جب تک مالکانہ قبضہ دے کر اس کو مالک اور قابض نہ بنایا جائے اس وقت تک اس کے ذمہ زکوٰۃ واجب نہ ہوگی اور والدہ کیلئے ان کا استعمال اور دیگر تصرفات جائز ہوں گے اور سال گزرنے پر زکوٰۃ انہی کے ذمہ ہوگی۔
(۲) صورتِ مسئولہ میں اگر عورت نے اولاد کو ان زیورات کا مالک و قابض نہیں بنایا تو ان کی زکوٰۃ والدہ پر ہی واجب ہوگی۔
قال فی شرح التنویر: و شرائط صحتہا (فی الموہوب) ان یکون مقبوضا غیر مشاع ممیزا غیر مشغول۔(رد المحتار: ج۵، ص۶۸۸)۔