کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ختنہ کرنے اور کرانے کے بارے میں کیا حکم ہے؟
اگر ایک شخص کا ختنہ بچپن میں نہیں ہوا اور اب وہ پینتیس سال کا ہے ، جبکہ وہ تمام شرعی حاجات کو پورا کرتا ہے ، جیسے شادی شدہ ہے اور حج کیا ہوا ہے تو اس کے نکاح پر کیا اثر ہوگا ؟ حج پر کیا اثر ہوگا اور دوسری عبادات پر کیا اثر ہوگا ؟
ختنہ کرانا سنتِ اسلام اور شعائرِ دین میں سے ہے اگر کسی کا بچپن میں ختنہ نہ ہوسکا ہو تو کسی غیر محرم کے سامنے کیونکہ ستر کھولنا جائز نہیں اس لئے بیوی کو طریقہ سکھا کر اسی کے ذریعہ یہ سنت انجام دی جاسکتی ہے ، تاہم اب اگر وہ بامرِ مجبوری غیر مختون ہی رہے تو اس سے شرعاً اس کے عقدِ نکاح اور دیگر عبادات پر کوئی اثر نہیں پڑے گا اگرچہ سنت کا تارک ضرور کہلائے گا۔
و فی الدر المختار : (و) الأصل (أن الختان سنۃ) کما جاء فی الخبر (و ہو من شعائر الاسلام) و خصائصہ (فلو اجتمع أہل بلدۃ علی ترکہ حاربہم) الإمام فلا یترک إلا لعذر و عذر شیخ لا یطیقہ ظاہر (و وقتہ) غیر معلوم (إلٰی قولہ) و قیل العبرۃ بطاقتہ و ہو الأشبہ۔ الخ(ج۶، ص۷۵۱)۔
و فیہ ایضًا : و قیل فی ختان الکبیر إذا امکنہ أن یختن نفسہٗ فعل و إلالم یفعل إلا أن لا یمکنہ النکاح أو شراء الجاریہ۔ الخ (ج۶، ص۳۸۲)۔