کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ :
(۱) اگر ایک شخص کی بیوی ناراض ہو کر اپنے والدین کے گھر چلی جائے تو اب اس کا صدقۂ فطر اس کے والدین کے ذمہ ہے یا اس کے شوہر کے ذمہ؟
(۲) عیدین کے موقع پر جو دعا کی جاتی ہے اس کا مسنون طریقہ کیا ہے ؟ آیا وہ دعا نماز کے بعد خطبہ سے پہلے ہے یا خطبہ سے فارغ ہونے کے بعد ؟
مندرجہ بالا سوالات کا جواب دے کر عنداللہ ماجور ہوں۔
(۱) بیوی اگر شوہر کے پاس موجود ہو تب بھی اس کی طرف سے صدقۂ فطر شوہر پر لازم نہیں ، بلکہ صاحبِِ نصاب ہونے کی صورت میں خود اس پر لازم ہے اور اس کے مال سے یااس کی اجازت سے کوئی بھی ادا کرسکتا ہے۔
(۲) نفسِ دعا کا جواز تو دونوں صورتوں میں ہے، البتہ بہتر یہ ہے کہ نماز کے بعد خطبہ اور اس کے بعد دعا کی جائے۔
فی الخانیہ : صدقۃ الفطر لا تجب إلاعلی الحر المسلم الغنی …… و الغنی الذی ہو شرط لوجوب صدقۃ الفطر أن یملک نصابًا أو مالًا قیمتہ قیمۃ نصاب فاضلًا عن مسکنہ و ثیاب بدنہٖ و أثاثہٖ و فرسہٖ و سلاحہ و لا یعتبر فیہ وصف النماء۔الخ(ج۱، ص۲۲۷)۔
فی الہدایۃ : و لا یؤدی عن زوجتہ و لا عن أولادہ الکبار و ان کانوا فی عیالہٖ و لو أدی عنہم أو عن زوجتہ بغیر أمرہم أجزأہم استحسانًا لثبوت الاذن عادۃ۔(ج۱، ص۲۰۹)۔
و فی صحیح البخاری : عن ام عطیّۃؓ أمرنا أن نخرج فنخرج الحیّض و العواتق و ذوات الخدور و قال ابن عون أو العواتق ذوات الخدور فأما الحیّض فیشہدن جماعۃ المسلمین و دعوتہم و یعتزلن مصلیٰہم۔ (ج۱، ص۱۳۴)۔
و فی المرقات : عن ام عطیۃؓ قالت أمرنا ان نخرج الحیض یوم العیدین و ذوات الخدور فیشہدن جماعۃ المسلمین و دعوتہم أی دعائہم و یکثرن سوادہم۔ (ج۳، ص۵۳۴)۔