کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک مسلمان شخص بینک میں اپنی رقم جمع کرواتا ہے، لیکن وہ اپنی جمع شدہ رقم میں زکوۃ کی کٹوتی سے بچنے کیلۓ بینک کے کاغذات میں وہ اپنے آپ کو غیر مسلم ظاہر کرتا ہے تو دریافت طلب امر یہ ہے کہ شخصِ مذکور اپنے اس فعل کی وجہ سے خارج از اسلام ہوگا یا نہیں ؟مع دلائل جواب دیجۓ۔
بلا وجہ اپنے آپ کو کافر ظاہر کرنا رضا علی الکفر ہونے کی وجہ سے یقیناً کفر ہے ، اس لۓ ایک حکمِ شرعی چھوڑنے کیلۓ اس قسم کی حرکت انتہائی درجہ قبیح ہے، ایسے شخص کو چاہۓ کہ تجدیدِ ایمان کیساتھ تجدیدِ نکاح بھی کرے اور آئندہ ایسی حرکت سے مکمل احتراز کرے ، جبکہ آج کل بینکوں نے زکوٰۃ کی کٹوتی کو اختیاری بنادیا ہے جس کیلۓ بینک کو لکھ کر دینا پڑتا ہے کہ میری رقم سے زکوٰۃ نہ کٹوائی جائے۔
في الفتاوى الهندية : و لو قال إن فعل كذا فهو يهودي أو نصراني أو مجوسي أو بریئ من الإسلام أو كافر أو يعبد من دون الله أو يعبد الصليب أو نحو ذلك مما يكون اعتقاده كفرا فهو يمين استحسانا كذا في البدائع حتى لو فعل ذلك الفعل يلزمه الكفارة و هل يصير كافرا اختلف المشايخ فيه قال شمس الأئمة السرخسي رحمه الله تعالى و المختار للفتوى أنه إن كان عنده أنه يكفر متى أتى بهذا الشرط و مع هذا أتى يصير كافرا لرضاه بالكفر اھ(2/ 54)۔
و فیھاایضاً : رجل كفر بلسانه طائعا ، و قلبه مطمئن بالإيمان يكون كافرا و لا يكون عند الله مؤمنا كذا في فتاوى قاضي خان اھ(2/ 283)۔