زکوۃ و نصاب زکوۃ

دوتولہ سونے اور دوتولہ چاندی کے زیور پر زکوۃ کا حکم

فتوی نمبر :
59988
| تاریخ :
2022-11-01
عبادات / زکوۃ و صدقات / زکوۃ و نصاب زکوۃ

دوتولہ سونے اور دوتولہ چاندی کے زیور پر زکوۃ کا حکم

میری زوجہ کی ملکیت میں ایک ایک تولہ کے 2 عدد سونے کے زیورات اور اور 2 تولہ چاندی کے زیورات عرصہ 10 سال سے موجود ھیں، کیا ان پر کوئی زکوات فرض ھوتی ھے
شکریہ

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورت مسئولہ میں چونکہ سائل کی بیوی کی ملکیت میں عرصہ دس سے سال دو تولہ سونا اور دوتولہ چاندی موجودہے اور دونوں کی مجموعی مالیت چاندی کے نصاب ( ساڑھے باون تولے) کی مالیت تک پہنچ جاتی ہے، اس لیے سائل کی بیوی پر گزشتہ دس سالوں کی زکوۃ اداکرنا لازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

فی النتف فی الفتاوی: شروطھا فی المال: النصاب: و اما التی فی المال إحدھا النصاب الکامل و نصاب الذھب عشرون مثقالا و نصاب الفضۃ مائتا درھم و نصاب متاع التجارۃ إذا بلغ قیمتہ مائتی درھم او عشرون مثقالا من الذھب۔اھ (ص:۱۰۹)۔
و فی الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 303)
(وقيمة العرض) للتجارة (تضم إلى الثمنين) لأن الكل للتجارة وضعا وجعلا (و) يضم (الذهب إلى الفضة) وعكسه بجامع الثمنية (قيمة) وقالا بالأجزاء، فلو له مائة درهم وعشرة دنانير قيمتها مائة وأربعون تجب ستة عنده وخمسة عندهما۔ الخ
و فی بدائع الصنائع: و أما مقدار الواجب من ھذا النصاب فما ھو مقدارالواجب من نصاب الذھب و الفضۃ فکان الواجب فیہ ما ھو الواجب فی الذھب و الفضۃ و ھو ربع العشر، و لقول النبی- ﷺ -’’ ھاتوا ربع عشور أموالکم‘‘ من غیر فصل (۲/ ۲۱)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
شفیع اللہ عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 59988کی تصدیق کریں
0     1210
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات