جماعت المسلمین

جماعت المسلمین کا حکم

فتوی نمبر :
59954
| تاریخ :
2008-07-21
ادیان و فرق / جماعت و فرق / جماعت المسلمین

جماعت المسلمین کا حکم

کیا فرماتے ہیں علما ءِکرام و مفتیانِ عظام اس بارے میں کہ ہمارے علاقے میں کچھ لوگ جو اپنے آپ کو جماعت المسلمین کہتے ہیں اور لوگوں میں مندرجہ ذیل نظریات کا پر چار کرتے ہیں ۔
1۔اپنے علاوہ کسی دوسرے کو مسلمان نہیں سمجھتے، بلکہ وہ علی الاعلان کہتے ہیں کہ ہمارے سابقہ آباء و اجداد سارے مشرک تھے، جبکہ ہمارے علاقے میں لوگ سو فیصد اہلسنت و الجماعت سے تعلق رکھتے ہیں ۔
2۔اجماعِ امت کو دلیلِ شرعی نہیں مانتے ۔
3۔ مجتہدین کو شریعت ساز کہتے ہیں ۔
4۔تقلید کو شرک کہتے ہیں ، کیا ایسے لوگوں کے ساتھ باہم تعلقات اور نکاح کرنا جائز ہے یا نہیں؟ تفصیل سے جواب دیں، تاکہ لوگوں کے دلوں سے اضطراب ختم ہو جائے ۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

جماعت المسلمین نام کی مذکور جماعت اگر واقعۃً اجماعِ امت جیسے متفقہ اور مسلمہ اصولِ شرعی کا انکار اور تقلیدِ اولوالامر (فقہاء مجتہدین ) کی پیروی کو جو قرآن و سنت کی نصوص سے ثابت اور سلفِ صالحین سے متوارث ہے، اسے شرک قرار دیتی ہو، اور صحیح العقیدہ مسلمانوں کو کافر قرار دیتی ہو تو ایسی صورت میں نہ صرف یہ کہ وہ خود اہلسنت و الجماعت سے خارج اور گمراہ ہے، بلکہ ان مسلمہ اصول کے انکار کی وجہ سے وہ خود دائرۂ اسلام سے خارج اور مرتد ہے ۔
مفہوم و ترجمۂ آیتِ شریفہ : اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں اور جو شخص اپنے سامنے ہدایت واضح ہونے کے بعد بھی رسول کی مخالفت کرے، اور مؤمنوں کے راستے کے سوا کسی اور راستے کی پیروی کرے، اس کو ہم اسی راہ کے حوالہ کردیں گے جو اس نے خود اپنائی ہے ، اور اسے دوزخ میں جھونکیں گے، اور وہ بہت برا ٹھکانہ ہے۔(النساء:۱۱۵)۔
صاحبِ تفسیر روح المعانی فرماتے ہیں کہ اس آیت سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ توحید اورنبوت کی دلیل کے بعد مومنین کی مخالفت حرام ہے، پس اجماعِ امت مفید ہوگا ، فروع میں اصول کے واضح ہونے کے بعد او ر قاضی رحمہ اللہ نے اس آیت کے ذریعہ حجیت اجماع پر اور مخالفت اجماع کے حرام ہونے پر اس طرح استدلال کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں مخالفت اجماع پر اور مسلمانوں کے راستے کے علاوہ کی اتباع پر سخت اور شدیدوعید بیان فرمائی ہے ۔(3/143)۔
اصولِ فقہ کی کتاب نور الانوار میں ہے کہ بے شک اجماعِ امت امورِ شرعیہ میں یقین اور قطعیت کا فائدہ دیتا ہے، پس اس کا منکر کافر ہے ۔ (ص225)۔
علامہ شامی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ التحریر کے باب الاجماع میں ہے کہ اجماعِ قطعی کا منکر کافر ہے ۔ (2/5)۔
مشکوٰۃ شریف میں حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا کہ کوئی شخص کسی دوسرے پر فسق اور کفر کی تہمت نہیں لگاتا، مگر یہ کہ وہ اس پر لوٹ کر آتی ہے، اگر وہ شخص ایسا نہ ہو۔ (رواہ البخاری ص411)۔
فقہ حنفی کی مشہور کتاب "الدر المختار "کے اندر ، سوال و جواب کی صورت میں مسئلہ مذکور ہے کہ : کیا ایسا شخص کافر ہو جاتا ہے جو کسی مسلمان کے بارے میں کفر کا عقیدہ رکھے؟جی ہاں! (ج4ص69)۔
علامہ شامی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اہلِ بدعت سے جب انکی بدعت ظاہر ہو جائے ا س طور پر کہ وہ موجبِ کفر ہو تو ان سب کا قتل جائز ہوگا،جب تک وہ رجوع اور توبہ نہ کرلیں اورجب وہ توبہ کرلیں اور اسلام لے آئیں تو ان سب کی توبہ قبول کی جاۓ گی، پھر فرمایا بدعتی اگر اپنی بدعت کی طرف لوگوں کی راہنمائی کرتا ہو اور انکو دعوت دیتا ہو اور اس بات کا خطرہ ہو کہ وہ اپنی بدعت کو پھیلائے گا تو اگر چہ اس کے کفرکا فیصلہ نہ کیا جائے، لیکن بادشاہ وقت کیلۓ سیاسۃًاور زجراً اسکو قتل کرنا جائز ہے، اس لۓ کہ اس کا فساد بہت بڑا اور عام ہے اس طور پر کہ یہ دین پر اثر انداز ہورہا ہے اوربدعت اگر کفرکی حد تک پہنچ جائے تو ایسے بدعتیوں کا قتلِ عام جائز ہے اور اگر کفر کی حدتک نہ پہنچی ہو تو ان کے معلم اور سردار کو زجراً اور بدعت کو روکنے کیلۓ قتل کیا جائے ۔
اس لۓ جو شخصِ مذکور بالاعقائد ونظریات کا حامل ہو، جب تک وہ اپنے باطل نظریات سے تائب ہو کر ان سے مکمل طور پر علیحدگی اختیار نہ کرے، اس وقت تک کسی بھی سنی العقیدہ لڑکی کا ایسے شخص سے عقدِ نکاح کرنا شرعاًجائز نہیں، لہٰذا تمام مسلمانوں کو چاہیۓ کہ ایسے لوگوں کے ساتھ باہم معاملات و معاشرت اختیار کرنے سے احتراز کریں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف و انتشار پیدا کرنے پر اُن کے خلاف قانونی چارہ جوئی بھی کریں۔

مأخَذُ الفَتوی

قال اللہ تعالیٰ: ﴿وَمَنْ يُّشَاقِقِ الرَّسُوْلَ مِن بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَه الْہُدٰى وَيَتَّبِـعْ غَيْرَ سَبِيْلِ الْمُؤْمِنِيْنَ نُوَلِّه مَا تَوَلّٰى وَنُصْلِيه جَہَنَّمَ۰ۭ وَسَاءَتْ مَصِيْرً﴾(النساء:۱۱۵)
فی روح المعانی : فتفيد الآية أن مخالفة المؤمنين بعد دليل التوحيد و النبوة حرام فيكون الاجماع مفيدا فى الفروع بعد تبيین الأصول و أوضح القاضى وجه الاستدلال بها على حجية الإجماع وحرمة مخالفته بأنه تعالى رتب فيها الوعيد الشديد على المشاقة واتباع غير سبيل المؤمنين(3/143)
و فی نور الانوار: ان الاجماع فی الامور الشرعیۃ فی الأصل یفید الیقین و القطعية فیکفر جاحدہ اھ (ص225)
و فی الشامية: و قد صرح فی التحریر فی باب الاجماع بان منکر الاجماع القطعی یکفر اھ (2/5)
وفی المشکوة : عن ابی ذر رضی اللہ تعالی عنہ قال قال رسول اللہ -صلی اللہ علیه و سلم- لایرمی رجل رجلا بالفسوق و لایرمیه بالکفر الا ارتد علیه ان لم یکن صاحبه کذلك اھ(رواہ البخاری ص411)۔
وفی الدر: وھل یکفر ان اعتقد المسلم کافراً؟ نعم اھ (ج4ص69)
وفی الشامية: أهل الأهواء إذا ظهرت بدعتهم بحيث توجب الكفر فإنه يباح قتلهم جميعا إذا لم يرجعوا ولم يتوبوا، وإذا تابوا وأسلموا تقبل توبتهم جميعا (الی قوله )والمبتدع لو له دلالة ودعوة للناس إلى بدعته ويتوهم منه أن ينشر البدعة وإن لم يحكم بكفره جاز للسلطان قتله سياسة وزجرا لأن فساده أعلى وأعم حيث يؤثر في الدين. والبدعة لو كانت كفرا يباح قتل أصحابها عاما، ولو لم تكن كفرا يقتل معلمهم ورئيسهم زجرا وامتناعا. اهـ.(4/243)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 59954کی تصدیق کریں
1     1803
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • میں جماعت المسلمین کی اصلیت جاننا چاہتا ہوں ، کیا وہ سیدھے راستے پر ہیں ؟

    یونیکوڈ   اسکین   جماعت المسلمین 0
  • ’’جماعت المسلمین ‘‘کی حیثیت

    یونیکوڈ   جماعت المسلمین 0
  • جماعت المسلمین کا حکم

    یونیکوڈ   جماعت المسلمین 1
Related Topics متعلقه موضوعات