تبلیغی بزرگ سے سنا ہے "جنت میں حضرت آسیہ اورحضرت مریم رضی اللہ عنہما رسول اللہ ﷺ کی بیویوں میں سے ہوں گی، یہ بات کہاں تک درست ہے؟ اور کیا اس کا حوالہ کسی کتاب میں ہے؟
یہ بات درست ہے اور بہت سی روایات سے ثابت بھی ہے، ذیل میں چند روایات درج کی جارہی ہیں ۔
ففی حاشية جلالین: جاء ذلك فی حدیث رواہ الزبیر بن بکار ان رسول اللہ -صلی اللہ علیه و سلم- قال لخدیجة مریم بنت عمران و کلثوم اخت موسی وآسية امراة فرعون فقالت اللہ اخبرك بذلك فقال: نعم فقالت بالرفاء و البنین اھ(سورة القصص: 327)۔
وفی مرقاة المفاتيح: ، ولا يبعد أن يكون تلميحا إلى ما ورد من أن مريم تكون زوجة نبينا في الجنة. (رواه الترمذي) . وفي الجامع: «فاطمة سيدة نساء أهل الجنة إلا مريم بنت عمران» . رواه الحاكم في مستدركه.(9\3995)۔
وفی حاشية مشکوة المصابیح: قیل ذکرہ لبیان فضل مریم لانھا زوجة نبینا -صلی اللہ علیه وسلم- فی الجنة اھ(ص574)۔
محض مسلم یا غیر مسلم گھرانے میں پیدا ہونے کی وجہ سے جنتی یا جہنمی ہونے کا اطلاق نہیں ہوتا
یونیکوڈ جنت 0