السلام علیکم مولانا صاحب!
میں نے 6.25 ایکڑ زمین کا سودہ 2.6 کروڑ میں کیا ہے، جس میں نے ابھی تک 90 لاکھ روپے دیئے ہے اور باقی رقم آہستہ آہستہ دیتے ہیں، میں نے یہ زمین سکیم کے لیے خریدی ہے تاکہ اس میں پلاٹ بنا کر بیچ سکوں اس کے 12 ایکٹر میں تقریبا ایک ایکٹر روڈ میں آجاتا ہے اور باقی دو ایکٹر میں نے اپنے لئے رکھ لیا ہے یعنی اس کو نہیں بیچنا باقی کے پلاٹ بنا دیئے ہیں،اب پلاٹ تو سال سے بک نہیں رہیں تو زکوٰۃ کس حساب سے ادا کرنی ہے؟ کیونکہ پلاٹ بک نہیں رہیں اور جن سے میں نے لی ہیں وہ پیسے مانگ رہے ہیں، اب زکوٰۃ کا کیا حساب ہو گا؟ پلاٹ کا کوئی ریٹ فکس بھی نہیں۔
سائل نے 6.25 ایکڑ زمین سے جو ایک ایکٹر روڈ کے لیے اور دو ایکٹر ذاتی ضرورت کے لیے مختص کردی تو ان (۳) ایکٹر زمین میں تو زکوٰۃ لازم نہیں، البتہ جو باقی 3.25 ایکڑ زمین ہے ان پر سالانہ ڈھائی فیصد زکوٰۃ لازم ہے۔ چنانچہ قمری سال کے اختتام پر مذکور پلاٹوں کی مارکیٹ ویلیو لگا کر اس میں سے بقیہ واجب الاداء رقم جدا کرنے کے بعد اگر باقی رقم بقدر نصاب (ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت کے بقدر) ہوا اس پر ڈھائی فیصد زکوٰۃ لازم ہے۔
کما فی فتاوى قاضي خان: ولو اشترى الرجل دار أو عبداً للتجارة ثم أجره يخرج من أن يكون للتجارة لأنه لما آجره فقد قصد المنفعة اھ (1/ 123)
وكما في الفتاوى الهندية: ولو اشترى قدورا من صفر يمسكها ويؤاجرها لا تجب فيها الزكاة كما لا تجب في بيوت الغلة اھ (1/ 180)
وكما في الهداية شرح البداية: الزكاة واجبة على الحر العاقل البالغ المسلم إذا ملك نصابا ملكا تاما وحال عليه الحول اھ (1/ 96) والله اعلم بالصواب