کیا فرماتےہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ قولِ مجتہد بھی قولِ رسول اللہ ﷺ ہی شمار ہوتا ہے۔ یہ کہنا کیسا ہے؟ اور اس کا مطلب بیان فرمائیں۔
قولِ مجتہد کو بایں معنی قولِ رسول کہہ سکتے ہیں کہ مجتہد کا قول ان کی اپنی طرف سے نہیں ہوتا، بلکہ قرآن و حدیث ہی کی روشنی میں ہوتا ہے۔ واللہ أعلم بالصواب