احوال قبر

جزاء وسزا کا فیصلہ قیامت کے دن ہوگا تو پھر عذابِ قبر کیوں؟

فتوی نمبر :
5620
| تاریخ :
2020-10-26
عقائد / قیامت و آخرت / احوال قبر

جزاء وسزا کا فیصلہ قیامت کے دن ہوگا تو پھر عذابِ قبر کیوں؟

جناب مفتی صاحب! جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ انسان کی سزا و جزا کا فیصلہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے قیامت کے روز کرنا ہے تو پھر یہ عذابِ قبر کیسا حساب ہے؟ کیا اس کا فیصلہ قیامت سے پہلے ہو جاتا ہے اس بات میں کتنی سچائی ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

پوری سزا و جزا تو آخرت میں ملے گی، جبکہ ہر شخص کا فیصلہ اس کے اعمال کے مطابق چکایاجائے گا ، لیکن بعض کی کچھ جزا و سزا دنیا میں بھی ملتی ہے۔ جیسا کہ بہت سی آیات و احادیث میں مضمون آیا ہے اور تجربہ و مشاہدہ بھی اس کی تصدیق کرتا ہے اسی طرح بعض اعمال پر قبر میں بھی جزا وسزا ہوتی ہے۔ اور یہ مضمون بھی احادیث ِمتواترہ میں موجود ہے اس سے آپ کا یہ شُبہ جاتا رہا کہ ابھی مقدمہ ہی پیش نہیں ہوا تو سزا کیسی ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ پوری سزا تو مقدمہ پیش ہونے اور فیصلہ چکائے جانے کے بعد ہی ہوگی۔ برزخ میں جو سزا ہوگی اس کی مثال ایسی ہے جیسے مجرم کو حوالات میں رکھا جاتا ہے۔ علاوہ ازیں یہ بھی ممکن ہے کہ کچھ لوگوں کے لیے برزخ کی سزا کفارہ سئیات بن جائے۔ جیسا کہ دنیوی پریشانیاں اور مصیبتیں اہلِ ایمان کے لیے کفارہ سئیات ہیں۔ بہرحال قبر کا عذاب و ثواب برحق ہے اس پر ایمان لانا واجب ہے اور اس سے ہر مومن کو پناہ مانگتے رہنا چاہیے۔ حضرت عائشہؓ فرمائی ہیں کہ آنحضرتﷺ ہر نماز کے بعد عذابِ قبر سے پناہ مانگتے تھے۔ متفق علیہ(مشکاۃ المصابیح) (از آپ کے مسائل اور ان کا حل)

مأخَذُ الفَتوی

و قال اللہ تعالیٰ: ﴿وَلَوْ تَرَى إِذِ الظَّالِمُونَ فِي غَمَرَاتِ الْمَوْتِ وَالْمَلَائِكَةُ بَاسِطُو أَيْدِيهِمْ أَخْرِجُوا أَنْفُسَكُمُ الْيَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْهُونِ بِمَا كُنْتُمْ تَقُولُونَ عَلَى اللَّهِ غَيْرَ الْحَقِّ وَكُنْتُمْ عَنْ آيَاتِهِ تَسْتَكْبِرُونَ﴾ (الأنعام: 93)
و قال اللہ تعالیٰ أیضاً: ﴿وَلَوْ تَرَى إِذْ يَتَوَفَّى الَّذِينَ كَفَرُوا الْمَلَائِكَةُ يَضْرِبُونَ وُجُوهَهُمْ وَأَدْبَارَهُمْ وَذُوقُوا عَذَابَ الْحَرِيقِ﴾ (الأنفال: 50)
وقال اللہ تعالیٰ أیضاً: ﴿النَّارُ يُعْرَضُونَ عَلَيْهَا غُدُوًّا وَعَشِيًّا وَيَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ أَدْخِلُوا آلَ فِرْعَوْنَ أَشَدَّ الْعَذَابِ﴿ (غافر: 46)
و قال اللہ تعالیٰ أیضاً: ﴿مِمَّا خَطِيئَاتِهِمْ أُغْرِقُوا فَأُدْخِلُوا نَارًا فَلَمْ يَجِدُوا لَهُمْ مِنْ دُونِ اللَّهِ أَنْصَارًا﴾ (نوح: 25)
وفی صحيح البخاري: عن موسى بن عقبة، قال: حدثتني ابنة خالد بن سعيد بن العاص، أنها سمعت النبي - صلى الله عليه وسلم - : وهو «يتعوذ من عذاب القبر» اه(2/ 99)
وفی صحيح مسلم: عن أبي هريرة: «عن النبي - صلى الله عليه وسلم - أنه كان يتعوذ من عذاب القبر، وعذاب جهنم، وفتنة الدجال» اه(1/ 413)
و فی صحيح البخاري: عن عائشة، زوج النبي - صلى الله عليه وسلم -: أن يهودية جاءت تسألها، فقالت لها: أعاذك الله من عذاب القبر، فسألت عائشة رضي الله عنها رسول الله - صلى الله عليه وسلم -: أيعذب الناس في قبورهم؟ فقال رسول الله - صلى الله عليه وسلم -: «عائذا بالله من ذلك» اه(2/ 36)
وفی سنن النسائي: عن أنس، أن النبي - صلى الله عليه وسلم - قال: " إن العبد إذا وضع في قبره وتولى عنه أصحابه إنه ليسمع قرع نعالهم، أتاه ملكان فيقعدانه فيقولان له: ما كنت تقول في هذا الرجل محمد - صلى الله عليه وسلم - ؟ فأما المؤمن فيقول: أشهد أنه عبد الله ورسوله، فيقال له: انظر إلى مقعدك من النار قد أبدلك الله به مقعدا خيرا منه " قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم -: " فيراهما جميعا، وأما الكافر أو المنافق، فيقال له: ما كنت تقول في هذا الرجل؟ فيقول: لا أدري، كنت أقول كما يقول الناس، فيقال له: لا دريت ولا تليت، ثم يضرب ضربة بين أذنيه فيصيح صيحة يسمعها من يليه غير الثقلين " اه(4/ 97)
وفی مشکاة المصابیح: وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم -: «إذا فرغ أحدكم من التشهد الآخر فليتعوذ بالله من أربع من عذاب جهنم ومن عذاب القبر ومن فتنة المحيا والممات ومن شر المسيح الدجال» . رواه مسلم اه (1/ 297)
و فی صحيح مسلم: أن يهودية أتت عائشة تسألها، فقالت: أعاذك الله من عذاب القبر، قالت عائشة: فقلت: يا رسول الله يعذب الناس في القبور؟ قالت عمرة: فقالت عائشة: قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم -: «عائذا بالله» اه(2/ 621)
وفی شرح النووي على مسلم: وَالتَّعَوُّذِ مِنْهُ اعْلَمْ أَنَّ مَذْهَبَ أَهْلِ السُّنَّةِ إِثْبَاتُ عَذَابِ الْقَبْرِ وَقَدْ تَظَاهَرَتْ عَلَيْهِ دَلَائِلُ الْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ قَالَ اللَّهُ تَعَالَى النَّارُ يُعْرَضُونَ عَلَيْهَا غدوا وعشيا الْآيَةَ وَتَظَاهَرَتْ بِهِ الْأَحَادِيثُ الصَّحِيحَةُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ)۔(إلی قولہ) وَقَدْ ذَكَرَ مُسْلِمٌ هُنَا أَحَادِيثَ كَثِيرَةً فِي إِثْبَاتِ عَذَابِ الْقَبْرِ وَسَمَاعِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَوْتَ مَنْ يُعَذَّبُ فِيهِ وَسَمَاعِ الْمَوْتَى قَرْعَ نِعَالِ دَافِنِيهِمْ وَكَلَامِهُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِأَهْلِ الْقَلِيبِ وَقَوْلِهُ مَا أَنْتُمْ بِأَسْمَعَ مِنْهُمْ وَسُؤَالِ الْمَلَكَيْنِ الْمَيِّتَ وَإِقْعَادِهِمَا إِيَّاهُ وَجَوَابِهُ لَهُمَا وَالْفَسْحِ لَهُ فِي قَبْرِهِ وَعَرْضِ مَقْعَدِهِ عَلَيْهِ بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ اه(17/ 201،۲۰۰)
و فی فتح القدير للشوكاني: بَلْ هُمْ أَحْيَاءٌ فِي الْبَرْزَخِ. وَفِي الْآيَةِ دَلِيلٌ عَلَى ثُبُوتِ عَذَابِ الْقَبْر اهِ(1/ 184) والله أعلم بالصواب!

واللہ تعالی اعلم بالصواب
اسد اللہ قیوم عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 5620کی تصدیق کریں
0     2197
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • عقیدہ حیات النبی ، کیا نبی اکرم ﷺ روضہ مبارک میں زندہ ہیں؟

    یونیکوڈ   اسکین   احوال قبر 0
  • قبر میں حضورؑ کی شبیہ آتی ہے یا فقط سوال ہوتا ہے؟

    یونیکوڈ   احوال قبر 0
  • قبر - برزخ میں جسمِ خاکی اور روح کے درمیان تعلق کی نوعیت

    یونیکوڈ   احوال قبر 0
  • مردوں کا زندہ لوگوں کی آواز سننا - سلام کا جواب دینا

    یونیکوڈ   احوال قبر 0
  • روزہ میں انجیکشن یا ڈرپ لگوانا

    یونیکوڈ   احوال قبر 0
  • عذابِ قبر اور منکر نکیر کا سوال کرنا برحق ہے یا نہیں؟

    یونیکوڈ   احوال قبر 0
  • اگر عورت قبر پر جائے تو کیا وہ مردوں کو بغیر کپڑوں کے نظر آتی ہے؟

    یونیکوڈ   احوال قبر 0
  • آپ علیہ السلام سے متعلق قبر مبارک میں دنیاوی حیات جیسی حیات کا عقیدہ رکھنا

    یونیکوڈ   احوال قبر 0
  • جزاء وسزا کا فیصلہ قیامت کے دن ہوگا تو پھر عذابِ قبر کیوں؟

    یونیکوڈ   احوال قبر 0
  • میری بیٹی مرد حضرات کی طرح رمضان میں تراویح سناسکتی ہے؟

    یونیکوڈ   احوال قبر 0
  • زندگی میں قبر کے لیے جگہ خریدنا

    یونیکوڈ   احوال قبر 0
  • قبر پر جاکر تین مرتبہ ہاتھ اٹھا کر دعا مانگنا

    یونیکوڈ   احوال قبر 0
  • حضور علیہ السلام سے متعلق عام انسانوں سے بڑھ کر دیکھنے یا سننے کا عقیدہ رکھنا

    یونیکوڈ   احوال قبر 0
  • شیخ عمر بکری کا نظریہ اور عقیدۂ عذابِ قبر

    یونیکوڈ   احوال قبر 0
  • عذابِ قبر کا اثبات اور عالمِ برزخ سے مراد

    یونیکوڈ   احوال قبر 0
  • منکرین عذابِ قبر سے متعلق شرعی نقطہ نظر

    یونیکوڈ   احوال قبر 0
  • کسی بزرگ کا انتقال کے بعد لوگوں کے پکارنے پر ان کی مدد کےلۓ حاضر ہونا-اور اس کا عقیدہ رکھنا

    یونیکوڈ   احوال قبر 0
  • مزاروں کے پاس سے گزرتے ہوئے انھیں جھک کر سلام کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   احوال قبر 0
  • کیا رمضان میں انتقال کرنے والا شخص عذابِ قبر سے محفوظ رہے گا؟

    یونیکوڈ   احوال قبر 0
Related Topics متعلقه موضوعات