جناب مفتی صاحب! جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ انسان کی سزا و جزا کا فیصلہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے قیامت کے روز کرنا ہے تو پھر یہ عذابِ قبر کیسا حساب ہے؟ کیا اس کا فیصلہ قیامت سے پہلے ہو جاتا ہے اس بات میں کتنی سچائی ہے؟
پوری سزا و جزا تو آخرت میں ملے گی، جبکہ ہر شخص کا فیصلہ اس کے اعمال کے مطابق چکایاجائے گا ، لیکن بعض کی کچھ جزا و سزا دنیا میں بھی ملتی ہے۔ جیسا کہ بہت سی آیات و احادیث میں مضمون آیا ہے اور تجربہ و مشاہدہ بھی اس کی تصدیق کرتا ہے اسی طرح بعض اعمال پر قبر میں بھی جزا وسزا ہوتی ہے۔ اور یہ مضمون بھی احادیث ِمتواترہ میں موجود ہے اس سے آپ کا یہ شُبہ جاتا رہا کہ ابھی مقدمہ ہی پیش نہیں ہوا تو سزا کیسی ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ پوری سزا تو مقدمہ پیش ہونے اور فیصلہ چکائے جانے کے بعد ہی ہوگی۔ برزخ میں جو سزا ہوگی اس کی مثال ایسی ہے جیسے مجرم کو حوالات میں رکھا جاتا ہے۔ علاوہ ازیں یہ بھی ممکن ہے کہ کچھ لوگوں کے لیے برزخ کی سزا کفارہ سئیات بن جائے۔ جیسا کہ دنیوی پریشانیاں اور مصیبتیں اہلِ ایمان کے لیے کفارہ سئیات ہیں۔ بہرحال قبر کا عذاب و ثواب برحق ہے اس پر ایمان لانا واجب ہے اور اس سے ہر مومن کو پناہ مانگتے رہنا چاہیے۔ حضرت عائشہؓ فرمائی ہیں کہ آنحضرتﷺ ہر نماز کے بعد عذابِ قبر سے پناہ مانگتے تھے۔ متفق علیہ(مشکاۃ المصابیح) (از آپ کے مسائل اور ان کا حل)
و قال اللہ تعالیٰ: ﴿وَلَوْ تَرَى إِذِ الظَّالِمُونَ فِي غَمَرَاتِ الْمَوْتِ وَالْمَلَائِكَةُ بَاسِطُو أَيْدِيهِمْ أَخْرِجُوا أَنْفُسَكُمُ الْيَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْهُونِ بِمَا كُنْتُمْ تَقُولُونَ عَلَى اللَّهِ غَيْرَ الْحَقِّ وَكُنْتُمْ عَنْ آيَاتِهِ تَسْتَكْبِرُونَ﴾ (الأنعام: 93)
و قال اللہ تعالیٰ أیضاً: ﴿وَلَوْ تَرَى إِذْ يَتَوَفَّى الَّذِينَ كَفَرُوا الْمَلَائِكَةُ يَضْرِبُونَ وُجُوهَهُمْ وَأَدْبَارَهُمْ وَذُوقُوا عَذَابَ الْحَرِيقِ﴾ (الأنفال: 50)
وقال اللہ تعالیٰ أیضاً: ﴿النَّارُ يُعْرَضُونَ عَلَيْهَا غُدُوًّا وَعَشِيًّا وَيَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ أَدْخِلُوا آلَ فِرْعَوْنَ أَشَدَّ الْعَذَابِ﴿ (غافر: 46)
و قال اللہ تعالیٰ أیضاً: ﴿مِمَّا خَطِيئَاتِهِمْ أُغْرِقُوا فَأُدْخِلُوا نَارًا فَلَمْ يَجِدُوا لَهُمْ مِنْ دُونِ اللَّهِ أَنْصَارًا﴾ (نوح: 25)
وفی صحيح البخاري: عن موسى بن عقبة، قال: حدثتني ابنة خالد بن سعيد بن العاص، أنها سمعت النبي - صلى الله عليه وسلم - : وهو «يتعوذ من عذاب القبر» اه(2/ 99)
وفی صحيح مسلم: عن أبي هريرة: «عن النبي - صلى الله عليه وسلم - أنه كان يتعوذ من عذاب القبر، وعذاب جهنم، وفتنة الدجال» اه(1/ 413)
و فی صحيح البخاري: عن عائشة، زوج النبي - صلى الله عليه وسلم -: أن يهودية جاءت تسألها، فقالت لها: أعاذك الله من عذاب القبر، فسألت عائشة رضي الله عنها رسول الله - صلى الله عليه وسلم -: أيعذب الناس في قبورهم؟ فقال رسول الله - صلى الله عليه وسلم -: «عائذا بالله من ذلك» اه(2/ 36)
وفی سنن النسائي: عن أنس، أن النبي - صلى الله عليه وسلم - قال: " إن العبد إذا وضع في قبره وتولى عنه أصحابه إنه ليسمع قرع نعالهم، أتاه ملكان فيقعدانه فيقولان له: ما كنت تقول في هذا الرجل محمد - صلى الله عليه وسلم - ؟ فأما المؤمن فيقول: أشهد أنه عبد الله ورسوله، فيقال له: انظر إلى مقعدك من النار قد أبدلك الله به مقعدا خيرا منه " قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم -: " فيراهما جميعا، وأما الكافر أو المنافق، فيقال له: ما كنت تقول في هذا الرجل؟ فيقول: لا أدري، كنت أقول كما يقول الناس، فيقال له: لا دريت ولا تليت، ثم يضرب ضربة بين أذنيه فيصيح صيحة يسمعها من يليه غير الثقلين " اه(4/ 97)
وفی مشکاة المصابیح: وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم -: «إذا فرغ أحدكم من التشهد الآخر فليتعوذ بالله من أربع من عذاب جهنم ومن عذاب القبر ومن فتنة المحيا والممات ومن شر المسيح الدجال» . رواه مسلم اه (1/ 297)
و فی صحيح مسلم: أن يهودية أتت عائشة تسألها، فقالت: أعاذك الله من عذاب القبر، قالت عائشة: فقلت: يا رسول الله يعذب الناس في القبور؟ قالت عمرة: فقالت عائشة: قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم -: «عائذا بالله» اه(2/ 621)
وفی شرح النووي على مسلم: وَالتَّعَوُّذِ مِنْهُ اعْلَمْ أَنَّ مَذْهَبَ أَهْلِ السُّنَّةِ إِثْبَاتُ عَذَابِ الْقَبْرِ وَقَدْ تَظَاهَرَتْ عَلَيْهِ دَلَائِلُ الْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ قَالَ اللَّهُ تَعَالَى النَّارُ يُعْرَضُونَ عَلَيْهَا غدوا وعشيا الْآيَةَ وَتَظَاهَرَتْ بِهِ الْأَحَادِيثُ الصَّحِيحَةُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ)۔(إلی قولہ) وَقَدْ ذَكَرَ مُسْلِمٌ هُنَا أَحَادِيثَ كَثِيرَةً فِي إِثْبَاتِ عَذَابِ الْقَبْرِ وَسَمَاعِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَوْتَ مَنْ يُعَذَّبُ فِيهِ وَسَمَاعِ الْمَوْتَى قَرْعَ نِعَالِ دَافِنِيهِمْ وَكَلَامِهُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِأَهْلِ الْقَلِيبِ وَقَوْلِهُ مَا أَنْتُمْ بِأَسْمَعَ مِنْهُمْ وَسُؤَالِ الْمَلَكَيْنِ الْمَيِّتَ وَإِقْعَادِهِمَا إِيَّاهُ وَجَوَابِهُ لَهُمَا وَالْفَسْحِ لَهُ فِي قَبْرِهِ وَعَرْضِ مَقْعَدِهِ عَلَيْهِ بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ اه(17/ 201،۲۰۰)
و فی فتح القدير للشوكاني: بَلْ هُمْ أَحْيَاءٌ فِي الْبَرْزَخِ. وَفِي الْآيَةِ دَلِيلٌ عَلَى ثُبُوتِ عَذَابِ الْقَبْر اهِ(1/ 184) والله أعلم بالصواب!
کسی بزرگ کا انتقال کے بعد لوگوں کے پکارنے پر ان کی مدد کےلۓ حاضر ہونا-اور اس کا عقیدہ رکھنا
یونیکوڈ احوال قبر 0