زکوۃ و نصاب زکوۃ

مشترکہ کاروبارکی زکوٰۃ کیسے دی جائے؟

فتوی نمبر :
5403
| تاریخ :
عبادات / زکوۃ و صدقات / زکوۃ و نصاب زکوۃ

مشترکہ کاروبارکی زکوٰۃ کیسے دی جائے؟

میرا ایک علیحدہ سے کاروبار ہے، جس میں پانچ برابر کے شریک ہیں، مجھے ملا کر جسے ایک سال سے زیادہ ہوگیا ہے، ہم نے اب تک اس کاروبار کا منافع آپس میں تقسیم نہیں کیا، ہم صرف کاروبار کے خرچے اٹھا رہے ہیں، کیا ہمیں زکوٰۃ اس پر دینی ہوگی؟ اور کس طرح کیا یہ انفرادی طور پر دی جائے گی؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سائل اور اس کے دیگر تمام شرکاء اگر پہلے سے صاحب نصاب ہیں تو حسب سابق سال پورا ہونے پر انہیں ادائیگی زکوٰۃ کرنا ہوگی، مگر اس نئے کاروبار کی زکوٰۃ نکالنے کے بارے میں یہ تفصیل ہے کہ اس کاروبار کو شروع کرنے کے لیے جو مشینری یا پلاٹ یا کوئی گاڑی وغیرہ خریدی گئی ہو، تو ان اخراجات کو منہا کرنے کے بعد جتنا خام یا تیار مال ہو یا جو پارٹیوں پر بیچ دیا ہو، وصولی ہو چکی ہو یا باقی ہو، اوراس کاروبار سے حاصل یا اس کے لیے الگ سے جتنی رقم جمع ہو تو پہلے اس سب مجموعے سے ہر فرد اور شریک کا حصہ متعین کر کے اس کی زکوٰۃ خود نکالنا یا کسی دوسرے شریک کو اس سلسلہ میں وکیل بنانا اور پھر اس وکیل کا نکالنا لازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الدرالمختار: (ولا في ثياب البدن) المحتاج إليها لدفع الحر والبرد ابن ملك (وأثاث المنزل ودور السكنى ونحوها) وكذا الكتب وإن لم تكن لأهلها إذا لم تنو للتجارة، غير أن الأهل له أخذ الزكاة، وإن ساوت نصبا، إلا أن تكون غير فقه وحديث وتفسير، أو تزيد على نسختين منها هو المختار: وكذلك آلات المحترفين الخ (2/264)۔
وفی التاتارخانیة: ان کان نصیب کل واحد منھما علی الانفراد یبلغ نصابا کاملا تجب الزکاۃ والا فلا سواء کانت شرکتھا شرکة عنان او مفاوضة: الخ (2/297)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 5403کی تصدیق کریں
0     8
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات