السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ مفتی صاحب! میرا سوال یہ ہے کہ اگر کسی شخص کا والد سید نہ ہو اور والدہ سیدہ ہو تو اس کے لیے زکوٰۃ لینا تو جائز ہے لیکن کیا سید یا سادات کی تعظیم کا جو حکم ہے، کیا وہ باقی رہے گا یا نہیں ؟
جس کا والد غیر سید ہو تو والد کی طرف منسوب ہو کر وہ بھی غیر سید کہلائے گا، اگرچہ اس کی والدہ سیدہ ہو ، لہذا ان کی سادات جیسی تعظیم بھی نہ ہو گی، البتہ ایسے شخص کی والدہ چونکہ سیدہ ہیں، اس لیے ان کی والدہ کی تعظیم سادات میں ہونے کی وجہ سے لازم ہو گی۔
كما في صحيح البخاري: 6750 - حدثنا مسدد، عن يحيى، عن شعبة، عن محمد بن زياد: أنه سمع أبا هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «الولد لصاحب الفراش» اھ (8/ 154)
و في المعجم الكبير للطبراني: 2632 - حدثنا محمد بن عبد الله الحضرمي، ثنا عثمان بن أبي شيبة، ثنا جرير، عن شيبة بن نعامة، عن فاطمة بنت حسين، عن فاطمة الكبرى قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «كل بني أم ينتمون إلى عصبة إلا ولد فاطمة، فأنا وليهم وأنا عصبتهم» اھ (3/ 44) والله اعلم بالصواب