کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس بارے میں کہ زید کا انتقال ہوگیا ہے ، اور وہ وصیت کرکے گیا ہے کہ "میرا نماز اور روزے کا فدیہ بارہ سال کی عمر کے حساب سے کسی جہاد کے فلاحی ادارے کو دیا جائے "،اب اس کی نماز اور روزے کا حساب بارہ سال کی عمر سے ہی لگایا جائےگا یا کسی اور عمر سے ؟ نیز فدیہ کی رقم کسی جہاد کے فلاحی ادارے میں ہی دینی ضروری ہے یا کہیں اور بھی دی جاسکتی ہے ؟ اور ایک دن کی چھ نمازوں کا فدیہ دینا ہوگا یا پانچ کا؟ اور اِس وقت فدیہ کی رقم کیا ہے؟
واضح ہو کہ صورتِ مسئولہ میں بلوغت کے بعد سے مرنے تک زید کی جتنی نمازیں اور روزے قضا ہوئے ہیں، ان کا حساب لگا کر تجہیز وتکفین اور قرض منہا کرنے کے بعد باقی ماندہ ترکہ کے ایک تہائی کے اندر اندر جتنی نمازوں اور روزوں کا فدیہ دینا ممکن ہو، اتنا فدیہ دینا ورثاء پر شرعاً لازم ہے ، تاہم ورثاء اگر عاقل بالغ ہوں تو ان کی رضامندی سے تہائی سے زائد میں بھی وصیت پوری کی جاسکتی ہے ، جبکہ وتر سمیت ایک دن کی چھ نمازوں کا فدیہ دینا لازم ہوگا ،اور ایک نماز کا فدیہ ایک صدقہ فطر کے برابر ہے جو کہ احتیاطاً دوکلو گندم یا اس کی قیمت ہے ، تاہم مذکور فدیہ جہادی تنظیم کو دینا ضروری نہیں، بلکہ کسی بھی دینی ادارے کے طلبہ کو دیا جاسکتا ہے ۔
ففی صحيح البخاري: عن عامر بن سعد، عن أبيه - رضي الله عنه -، قال: مرضت، فعادني النبي - صلى الله عليه وسلم -، فقلت: يا رسول الله، ادع الله أن لا يردني على عقبي، قال: «لعل الله يرفعك وينفع بك ناسا»، قلت: أريد أن أوصي، وإنما لي ابنة، قلت: أوصي بالنصف؟ قال: «النصف كثير»، قلت: فالثلث؟ قال: «الثلث، والثلث كثير أو كبير»، قال: فأوصى الناس بالثلث، وجاز ذلك لهم۔اھ(4/ 3)
وفی الدر المختار: (وتجوز بالثلث للأجنبي) عند عدم المانع (وإن لم يجز الوارث ذلك لا الزيادة عليهاإلا أن تجيز ورثته بعد موته) ۔اھ(6/ 650)
وفیه ایضاً: (وفدية كل صلاة ولو وترا) كما مر في قضاء الفوائت (كصوم يوم) على المذهب وكذا الفطرة والاعتكاف الواجب يطعم عنه لكل يوم كالفطرة والولوالجية.اھ( 2/ 426)
وفیه ایضاً: (ولو مات وعليه صلوات فائتة وأوصى بالكفارة يعطى لكل صلاة نصف صاع من بر) كالفطرة(وكذا حكم الوتر) والصوم، وإنما يعطي (من ثلث ماله) ۔اھ(2/ 72)
وفی الفتاوى الهندية: وكذلك لو قال : ثلث مالي في غزو أو قال: في سبيل الله تعالى، أو قال: في السبيل فهذا على تمليك الفقراء وأحب إلي أن يعطوا من يغزو، رجل جعل فرسه في الغزو، وقال: يعطى فقيرا في سبيل الله تعالى، فإذا ملكه صنع به ما شاء۔اھ(6/ 96)
وفی البدائع : ومن أحكام الإسلام: أن الوصية بما زاد على الثلث ممن له وارث تقف على إجازة وارثه.اھ (7/ 335)واللہ اعلم بالصواب!
۲۴/ربیع الاول /۱۴۴۳ھ