میں نے اپنی ادارے سے گھر خریدنے کے لیے اسی لاکھ (8000000) کا بلاسود قرض لیا، میں نے اپنا گھر 2013 میں تقریباً اسی قیمت پر تعمیر کیا تھا،ہمارے ادارے میں ہمارے پاس تنخواہ اور جائیداد کی قیمت میں اضافے کے ساتھ (ہاوس لان ڈفزنس) حاصل کرنے کا آپشن موجود ہے ، ظاہر ہے دونوں وقت کے ساتھ بڑھ رہے تھے، اس لیے میں وقتا فوقتا ہاؤس لون ڈفزنس کے مد میں رقم حاصل کرتا رہا ، اس وقت میرے ادارے کا مجھ پر جو قرضہ ہے وہ دو کروڑ (20000000) ہے کچھ مختلف رقم کے ساتھ میں نے 2018 میں اپنے بھائیوں کے لیے ایک پلاٹ خریدا کیونکہ اس کے پاس اس کا ذاتی گھر نہیں ہے، ستائیس لاکھ (2700000) روپے کا ، اور میں نے ایک کار خریدی اپنی ذاتی استعمال کے لیے 2018 میں اکیس لاکھ (2100000) کی 2020 میں ، میں نے بھائیوں کے گھر کی تعمیر کے لیے تریپن لاکھ (5300000) کا ایک اور پلاٹ خریدا، اور اب پلاٹ کی مارکیٹ قیمت تقریباً ستر لاکھ(7000000) ہے، میں نے اپنے ایک دوست کے ساتھ ایک پلاٹ میں حصہ ڈالا ، بیس لاکھ (2000000) کا ، واضح رہے کہ مذکور تمام خریداریاں میری ادارے کی طرف سے ملنے والے غیر سودی قرض کی رقم سے کی گئی ہیں، جس کی ادائیگی ماہانہ پچاسی ہزار (85000) قسط وار کی حساب سے ادا کر رہا ہوں اور میں نے اپنی جمع پونجھی سے ایک اور پلاٹ بک کیا تھا جس کی ادائیگی قسطوں کی بنیاد پر ہے، فروری 2021 سے اب تک ساڑے چار لاکھ 450000) کی قسطیں ادا کی ہے، اب میرے گھر کی موجودہ قیمت جس میں ، میں رہ رہا ہوں تین کروڑ (30000000) ہے، اور میں اسی پراپرٹی کے مقابلے میں مذکورہ تمام قرضے حاصل کر رہا ہوں۔
سوالات: اب میں ان جائیدادوں پر زکوٰۃ کے حساب سے میں تھوڑا الجھا ہوا ہوں ،کیا میں اپنے بھائیوں کے لیے خریدی ہوئی جائیداد پر زکوٰۃ دوں؟ (2) وہ پلاٹ جو میں نے 2020 میں خریدا تھا، جو میرے بھائیوں کے گھر کی تعمیر کے لیے لیا تھا، کیا میں اس پر زکوٰۃ ادا کرنے کا ذمہ دار ہوں؟ اگر ہاں تو کس حساب سے زکوٰۃ ادا کروں مارکیٹ کی قیمت سے یا اصل خریداری کی قیمت سے ؟ کیا میں اس پراپرٹی پر زکوٰۃ ادا کرنے سے قبل بقایا قرضہ کاٹ دوں؟ (3) وہ پلاٹ جو میں نے قسطوں پر خریدا اس کے ہر سال زکوٰۃ کے حساب کا طریقہ کار کیا ہونا چاہیئے ؟ میری بیوی کے پاس 5 تولہ سونا ہے، اس کا کیا حکم ہے؟
نوٹ: سائل نے جو پلاٹ 2018 میں اپنے بھائیوں کے لیے خریدا ، اور جو دوسرا پلاٹ قسطوں پر اپنے بیٹوں کے لیے خریدا دونوں تجارت کے لیے نہیں خریدے ، بلکہ ضرورت کے لیے خریدے گئے تھے ، البتہ 2020 میں تریپن لاکھ کی جو پلاٹ خریدا وہ واپس بیچنے کی نیت سے خریدا تھا کہ جو منافع آئیگا، اس سے بھائیوں کے لیے گھر تعمیر کرونگا؟
سائل نے جو قرضہ اپنے ادارے سےلیا ہے ، وہ چونکہ تجارتی نوعیت کا قرضہ ہے اس لیے زکوٰۃ کی ادائیگی کے وقت اس قرضہ کو منہا نہیں کیا جائے گا، اس کے بعد واضح ہو کہ سائل نے جو مکان رہائش کے لیے خریدا ہے ، اس پر زکوٰۃ نہیں ، اس طرح سائل نے جو پلاٹ اپنے بھائیوں کے لئے لیا ہے، یا اپنے بچوں کے مستقبل کے لئے لیا، ان دونوں پلاٹوں پر بھی زکوٰۃ لازم نہیں، البتہ جو پلاٹ 2020 میں آگے بیچنے کی نیت سے خریدا تھا، وہ چونکہ تجارت کی نیت سے خریدا تھا، اس لیے اس پر مارکیٹ ریٹ کے حساب سے سالانہ ڈھائی فیصد زکوٰۃ ادا کرنا لازم ہوگا، جبکہ سائل کی بیوی کے پاس جو پانچ تولہ سونا ہے، اگراس کے پاس اس سونے کے علاوہ کوئی نقدی یا مال تجارت وغیرہ بھی ہو، ، تو ایسی صورت میں مذکور سونے کے زیورات پر بھی سالانہ زکوٰۃ واجب ہے ورنہ نہیں ، جبکہ سائل نے جو پلاٹ اپنے بھائیوں اپنے بھائیوں اور بیٹوں کے لیے خریدے تھے، اگر خرید کر مذکور پلاٹ بھائیوں اور بیٹوں کے حوالے کیے ہوں تو ان پلاٹوں کی زکوٰۃ وغیرہ تمام چیزوں کے ذمہ دار بھائی اور بیٹے ہی ہونگے، تاہم اگر سوال کی نوعیت کچھ اور ہو تو اس کی وضاحت کرکے دوبارہ حکم شرعی معلوم کرسکتے ہیں ۔
کما فی الدرالمختار: (و) فارغ (عن حاجته الأصلية) لأن المشغول بها كالمعدوم. وفسره ابن ملك بما يدفع عنه الهلاك تحقيقا كثيابه أو تقديرا كدينه الخ (2/262)۔
وفی تبیین الحقائق: وَعَنْ حَاجَتِهِ الْأَصْلِيَّةِ كَدُورِ السُّكْنَى وَثِيَابِ الْبِذْلَةِ، وَأَثَاثِ الْمَنَازِلِ وَآلَاتِ الْمُحْتَرِفِينَ وَكُتُبِ الْفِقْهِ لِأَهْلِهَا فَلِأَنَّ الْمَشْغُولَ بِالْحَاجَةِ الْأَصْلِيَّةِ كَالْمَعْدُومِ (قَوْلُهُ: وَأَثَاثِ الْمَنَازِلِ إلَى آخِرِهِ) أَيْ وَدَوَابِّ الرُّكُوبِ وَعَبِيدِ الْخِدْمَةِ وَسِلَاحِ الِاسْتِعْمَالِ لَا زَكَاةَ فِيهَا وَكَذَا الدُّورُ وَالْحَوَانِيتُ وَالْجِمَالُ يُؤَجِّرُهَا لَا زَكَاةَ فِيهَا. الخ (1/253)۔
وفی النہر الفائق شرح کنز الدقائق: (و) عن (حاجته الأصلية) فسرها ابن الملك بما يدفع الهلاك عن الإنسان تحقيقاً أو تقديراً فالثاني كالدين والأول كالنفقة ودور السكنى وآلات الحرث والثياب المحتاج إليها لدفع الحر والبرد وآلات الحرفة وأثاث المنزل ودواب الركوب وكتب العلم لأهلها فإن كانت له دراهم يصرفها إلى تلك الحوائج صارت كالمعدومة انتهى. الخ (1/415)۔
وفی الدرالمختار: (و) اعلم أن الديون عند الإمام ثلاثة: قوي، ومتوسط، وضعيف؛ (فتجب) زكاتها إذا تم نصابا وحال الحول، لكن لا فورا بل (عند قبض أربعين درهما من الدين) القوي كقرض (وبدل مال تجارة) فكلما قبض أربعين درهما يلزمه درهم (و) عند قبض (مائتين منه لغيرها) أي من بدل مال لغير تجارة وهو المتوسط كثمن سائمة وعبيد خدمة ونحوهما مما هو مشغول بحوائجه الأصلية كطعام وشراب وأملاك. الخ (2/305)۔
وفی بدائع الصنائع: وأما صفة نصاب الذهب فنقول: لا يعتبر في نصاب الذهب أيضا صفة زائدة على كونه ذهبا فتجب الزكاة في المضروب والتبر والمصوغ والحلي إلا على أحد قولي الشافعي في الحلي الذي يحل استعماله والصحيح قولنا؛ لأن قوله تعالى {والذين يكنزون الذهب والفضة} [التوبة: 34] الخ (2/18)۔