السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبر کاتہ! امید ہے بفضلہ تعالیٰ مزاجِ گرامی بخیر ہوں گے۔بحمد الله میں دورہ حدیث میں زیرِ تعلیم ہوں اور گھر والے فراغت کے بعد سال لگانے کے لئےکہہ رہے ہیں اور بندہ کی بھی خواہش ہے ۔دین کی خدمت کی غرض سے اور اشاعتِ اسلام کی غرض سے، تبلیغی جماعت میں سال لگانا کیسا ہے؟ بہت لوگ کہتے ہیں اپنے وقت کو ضائع کرنا ہے۔ برائے مہربانی مدلل و تسلی بخش جواب دے کر شکریہ کا موقع دیں۔
واضح ہو کہ چلّہ ، چار ماہ یا سال و غیره کم و بیش اوقات کے لئے تبلیغی جماعت کے ساتھ جانا اگرچہ شر عاً فرض یا واجب نہیں، مگر اپنے اعمال کی اصلاح کرنا اور بقدرِ ضرورت دین سیکھنا، سکھا ناہر مسلمان پر فرض اور لازم ہے اور خاص طور پر نوجوان یا بڑی عمر کے حضرات کے لئے تبلیغ میں جاکر دین سیکھنا، سکھانا اور اس پر عمل پیرا ہونا انتہائی مفید ہے، جس کا مشاہدہ عام دیکھنے سے بخوبی محسوس ہوتا ہے، پھر یہ سیکھنا، سکھانا اور اصلاحِ نفس خواہ تھوڑے وقت میں ہو یا زیادہ میں، اس میں شرعاً کوئی قباحت نہیں، لہٰذا سائل اگر فارغ البال ہو اور والدین کی طرف سے بھی اجازت ہو تو اس کے لئے اس کارِ خیر (تبلیغ) میں حصہ لینے میں شرعاً کوئی حرج نہیں، بلکہ بڑی سعادت ہے، اس کو وقت کے ضیاع پر محمول کرنا جہالت پر مبنی عمل ہے، جس سے ان کو احتراز کرنا چاہیے۔
کما في التنزيل العزيز: {وَلْتَكُنْ مِنْكُمْ أُمَّةٌ يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ وَيَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ۔ الآية} [آل عمران: 104]
کما في رد المحتار: (قوله: واعلم أن تعلم العلم إلخ) أي العلم الموصل إلى الآخرة أو الأعم منه. قال العلامي في فصوله: من فرائض الإسلام تعلمه ما يحتاج إليه العبد في إقامة دينه وإخلاص عمله لله تعالى ومعاشرة عباده اھ (1/42)
کیا درست قرآن دینا تبلیغ میں داخل ہےیا تبلیغ کے لئے اس راستے میں نکل کر دعوت دینا لازم ہے؟
یونیکوڈ دعوت و تبلیغ 0کیا تبلیغ والوں کا سہ روزہ، چلہ، چارماہ اور سات ماہ وغیرہ اوقات مقرر کرنا بدعت ہے؟
یونیکوڈ دعوت و تبلیغ 0آیت ’’اِنْفِرُوْا خِفَافاً وَّ ثِقَالاً ‘‘کو مروّ جہ تبلیغ میں نکلنے کی ترغیب کے لۓ پڑھنا
یونیکوڈ دعوت و تبلیغ 1تبلیغی جماعت والے اگر جہاد کی بات نہ کرے تو کیا اس جماعت میں تبلیغ کا کام کیا جاسکتا ہے؟
یونیکوڈ دعوت و تبلیغ 0