میں کرایہ کے مکان میں رہتا ہوں، میں نے ایک پلاٹ بک کروایا ہے اور 264000 ادا کرچکا ہوں، جس میں سے 190000 قرضہ ہے، کیا مجھ پر زکوٰۃ فرض ہے؟ اس کے علاوہ سونا ہے جس کی قیمت بیس ہزار 20000 ہے۔
مذکور پلاٹ اگر تجارت کی غرض سے نہیں خریدا ہو، بلکہ اپنی رہائش وغیرہ کے لئے لیا ہو، تو اس پلاٹ کی مالیت پر شرعاً زکوٰۃ لازم نہیں ، البتہ قرض منہا کرنے کے بعد اگر سائل کے پاس مذکور سونا سمیت چاندی نقدی یا مال تجارت میں سے کچھ بقدر نصاب (ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت کے بقدر ہو تو سائل پر زکوٰہ لازم ہوگی ورنہ نہیں ۔
کما فی الدالمختار: (وسببه) أي سبب افتراضها (ملك نصاب حولي) نسبة للحول لحولانه عليه (تام) الخ (2/259)۔
وفی ردالمحتار: تحت (قوله نصاب) هو ما نصبه الشارع علامة على وجوب الزكاة من المقادير المبينة الخ (2/259)۔
وفی البحر الرائق: (قوله شرط وجوبها العقل والبلوغ والإسلام والحرية) (الی قولہ) (قوله وملك نصاب حولي فارغ عن الدين وحوائجه الأصلية نام، ولو تقديرا) الخ (2/218)۔