2021 سونے کی زکوٰۃ کا فتوی اور میرے پاس چار پلاٹ ہیں، کیا ان کی زکوٰۃ بنتی ہے؟
سائلہ کے پاس جو سونا موجود ہے اگر وہ بقدر نصاب (ساڑے سات تولہ) ہو یا سائلہ کے پاس اس سونے کے علاوہ کوئی چاندی یا نقدی بھی موجود ہو ۔جن کی مجموعی مالیت چاندی کے نصاب (ساڑے باون تولہ چاندی ) کی مالیت کو پہنچتی ہو، تو ایسی صورت میں سال پورا ہونے کی جو مارکیٹ ریٹ ہوگی، سائلہ کے ذمہ اس کے مطابق ڈھائی فیصد کے حساب سے زکوٰۃ دینا لازم ہوگا، جبکہ سائلہ کے پاس جو پلاٹ موجود ہیں، وہ اگر سائلہ نے آگے فروخت کرنے کی نیت سے خریدے ہوں، تو ان کی مالیت پر بھی زکوٰۃ لازم ہوگی، ورنہ نہیں۔
کما فی سنن ابی داؤد: حدثنا محمد بن داود بن سفيان، حدثنا يحيى بن حسان، حدثنا سليمان بن موسى أبو داود، حدثنا جعفر بن سعد بن سمرة بن جندب، حدثني خبيب بن سليمان، عن أبيه سليمان، عن سمرة بن جندب، قال: «أما بعد، فإن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يأمرنا أن نخرج الصدقة من الذي نعد للبيع»(2/ 95)۔
و فی التاتارخانیة: واذا اشتری عرضا بدراھم، او دنانیر (الی قوله) فالمشتری لایصیر للتجارۃ الا اذا نوی التجارۃ، وفی السغنانی، یعنی نواہ حالة الشراء، اما اذا کانت النیة بعد ذالک فلا بد من اقتران عمل التجارۃ بنیة الخ (3/ 166)۔
و فی الھدایة: وإن اشترى شيئا ونواه للتجارة كان للتجارة لاتصال النية بالعمل الخ (1/ 96)۔
وفیہا ایضاً: الزكاة واجبة في عروض التجارة كائنة ما كانت إذا بلغت قيمتها نصابا من الورق أو الذهب " لقوله عليه الصلاة والسلام فيها " يقومها فيؤدي من كل مائتي درهم خمسة دراهم الخ (1/ 212)۔