میں ، اگست 2020 میں ایک پلاٹ کی خریداری کی وجہ سے چار لاکھ کا مقروض ہوں، جو کہ ماہانہ اقساط پر لیا ہے ، میری بیوی کے پاس ۱۳۰ گرام سونا ہے جو میری ملکیت ہے ، میری دو بیٹیاں ہیں ، براہ کرم آنے والی پہلی رمضان میں زکوٰۃ دینے کے حوالے سے رہنمائی فرمائیں ؟ شکریہ!
سائل نے یہ نہیں لکھا کہ مذکور پلاٹ اس نے کس نیت سے خریدا ہے، تاہم اگر اس نے پلاٹ تجارتی مقاصد کے لئے (دوبارہ بیچنے کی غرض سے) خرید ا ہو تو ایسی صورت میں مذکور پلاٹ کی موجودہ مالیت اور ایک سو تیس گرام سونے کی مالیت میں سے چار لاکھ کا قرض منہا کرنے کے بعد بقیہ مالیت پر ڈھائی فیصد کے حساب سے زکوٰۃ ادا کر نالازم ہو گا۔
كما في الفتاوى الهندية: ومنها الفراغ عن الدين قال أصحابنا رحمهم الله تعالى كل دين له مطالب من جهة العباد يمنع وجوب الزكاة سواء كان الدين للعباد كالقرض وثمن البيع اھ (1/ 172).
و في الدر المختار: (ومديون للعبد بقدر دينه) فيزكي الزائد إن بلغ نصابا، وعروض الدين كالهلاك عند محمد اھ (2/ 263).
وفى حاشية ابن عابدين (رد المحتار): (قوله ومديون للعبد) الأولى ومديون بدين يطالبه به العبد ليشمل دين الزكاة والخراج لأنه لله - تعالى - مع أنه يمنع لأن له مطالبا من جهة العباد كما مر ط (قوله بقدر دينه) متعلق بقوله فلا زكاة اھ (2/ 263) والله اعلم بالصواب