السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
میں جدہ میں رہتا ہوں اور میں کچھ سوالات زکوٰۃ سے متعلق پوچھنا چاہتا ہوں ، سوال نمبر ا: ایک شخص کے پاس ذرائع آمدنی دو یا تین ماہ کی تنخواہ سے بچت ہے اور 2 تولہ سونا بھی جو کہ 7.5 سونا سے زیادہ ہے، کیا اسی دن وہ صاحب نصاب ہوجائے گا؟ یا زکوٰۃ کی ادائیگی کے لیے ایک سال مکمل کرے گا، اگر وہ ایک سال مکمل کرنے سے پہلے یہ ساری رقم اور سونا خرچ کردے ،کیا پھر بھی وہ زکوٰۃ ادا کرنے کا ذمہ دار ہوگا؟سوال نمبر2 : اگر کوئی اپنے علاج معالجے کے لیے لوگوں سے رقم اکٹھا کرتا ہے، اور وہ تقریباً 7.5 تولہ سے زیادہ ہے، کیا وہ صاحب نصاب سمجھا جائے گا؟ اور زکوٰۃ واجب ہوگئی، اور اگر وہ ایک ڈیڑھ سال کے بعد وہ اس ساری کی ساری رقم کو کسی اور جگہ صدقہ کردیتا ہے، اور علاج معالجے پر خرچ نہیں کرتا، کیا پھر بھی وہ زکوٰۃ دینے کا ذمہ دار ہے؟
واضح ہو کہ جو شخص نصاب زکوٰۃ کا مالک ہوجائے، تو اس پر زکوٰۃ کی ادائیگی تب لازم ہوگی، ، جب اس نصاب پر ایک سال قمری حساب سے گزر جائے، یا سال مکمل ہونے کے بعد ساری رقم کسی اور جگہ اللہ کی راہ میں صدقہ کردے بہر صورت اس سے زکوٰۃ ساقط ہوجائے گی، تاہم جو رقم علاج کے لیے اکٹھی کی ہو، اور وہ بقدر نصاب ہو، اور اس پر سال بھی گزر چکا ہو، اگرچہ اسے ابھی تک استعمال نہ کیا ہو، تو اس پر بھی ڈھائی فیصد کے حساب سے زکوٰۃ لازم ہوگی۔
کما فی الھندیة: (ومنها حولان الحول على المال) العبرة في الزكاة للحول القمري الخ (1/175)۔
وفیہ ایضاً: ومن تصدق بجميع نصابه ولا ينوي الزكاة سقط فرضها الخ (1/171)۔