میری بیوی کی ملکیت میں تقریباً پچیس تولہ سونا ہے، جس کی وہ مستقل زکوٰۃ ادا کر رہی ہے، اب اس پچیس تولہ سونے میں سے وہ دس تولہ مجھے دے رہی ہے کہ ہم ایک گاڑی لے لیں اپنے استعمال کے لیے، میں اگر سونا بیچ کر گاڑی خرید لیتا ہوں، اور منافع میں بیچ کر کے منافع استعمال کرلیتا ہوں، اور واپس گاڑی خرید کر لیتا ہوں، اوراسی طرح یہ سلسلہ چلتا رہتا ہو، تو کیا مجھے بھی زکوٰۃ دینی پڑے گی؟ مہربانی کر کے رہنمائی کردیں۔
سائل کی بیوی اگر سائل کو مذکور دس تولہ سونا باقاعدہ مالکانہ قبضے کے ساتھ دیدے، تو سائل اس سونے کا مالک بن جائے گا، پھر اگر سائل پہلے سے صاحب نصاب نہ ہو، تو جس دن سائل کے قبضے میں مذکور سونا آجائے، اس دن سے سائل صاحب نصاب شمار ہوگا، چنانچہ اس پر سال گزرنے کے بعد اگر اگلے سال اسی دن سائل کے پاس مذکور سونا بقدر نصاب چاندی ، نقدی ، یا مال تجارت یا ان کا مجموعہ بقدر نصاب موجود ہو، تو ایسی صورت میں سائل کے ذمہ ڈھائی فیصد کے حساب سے اس کی زکوٰۃ لازم ہوگی۔
کمافی الھندیة: الزكاة واجبة في عروض التجارة كائنة ما كانت إذا بلغت قيمتها نصابا من الورق والذهب كذا في الهداية. ويقوم بالمضروبة كذا في التبيين وتعتبر القيمة عند حولان الحول الخ (2/179)۔
وفی الدرالمختار: (أو) في (عرض تجارة قيمته نصاب) الجملة صفة عرض وهو هنا ما ليس بنقد. الخ (2/298)۔