زکوۃ و نصاب زکوۃ

بینک اکاؤنٹ میں رکھے گئے پیسوں پر زکوۃ کا حکم

فتوی نمبر :
42216
| تاریخ :
عبادات / زکوۃ و صدقات / زکوۃ و نصاب زکوۃ

بینک اکاؤنٹ میں رکھے گئے پیسوں پر زکوۃ کا حکم

میرا سوال ہے کہ میرے پاس ساڑھے سات تولہ سونا سے زیادہ ہونے کی وجہ سے میں ہر سال اس کی مد میں زکوۃ ادا کرتا ہوں،سونے کے علاوہ میرے پاس بینک اکاؤنٹ ہے،جس میں صرف تنخواہ آتی ہے اور میں اپنا روزمرہ کا خرچ بھی اسی اکاؤنٹ سے کرتا ہوں،میرا سوال ہے کہ بینک میں جو رقم موجود ہے،جس پر ایک سال مکمل نہیں ہوا ،کیا اس رقم پر بھی زکوۃ ادا کرنی ہوگی یا صرف سونے پر دینی ہوگی؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

زکوۃ کی تاریخ میں اکاؤنٹ کے اندر جتنی رقم ہوگی،سائل کو اس پر بھی سونے کے ساتھ زکوۃ ادا کرنا لازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کمافی سنن الترمذي: عن ابن عمر، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من استفاد مالا فلا زكاة عليه، حتى يحول عليه الحول عند ربه. (2/ 18)۔
وفی الدر المختار: (وسببه) أي سبب افتراضها (ملك نصاب حولي) نسبة للحول لحولانه عليه(2/ 259)۔
وفی رد المحتار تحت (قوله: نسبة للحول) أي الحول القمري لا الشمسي كما سيأتي متنا قبيل زكاة المال (قوله: لحولانه عليه) أي لأن حولان الحول على النصاب شرط لكونه سببا، وهذا علة للنسبة وسمي الحول حولا لأن الأحوال تتحول فيه، أو لأنه يتحول من فصل إلى فصل من فصوله الأربع(2/ 259)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 42216کی تصدیق کریں
0     527
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات