میں تین سال پہلے کی زکوٰۃ ادا کرنا چاہتا ہوں، لیکن مجھے یاد نہیں کہ اس وقت میرے پاس کتنی نقد رقم تھی، اب اس سال کی زکوٰۃ کیسے ادا کروں؟ اور کس حساب سے ادا کروں؟ البتہ سونے اور جو پیسہ میں نے کاروبار میں لگایا ہوا ہے اس کی زکوٰۃ ادا کرچکا ہوں، براہ مہربانی رہنمائی فرمائیں۔
صورت مسئولہ میں اگر سائل کو یہ حتمی طور پر یاد نہ ہو کہ اس کی ملکیت میں تین سال پہلے کتنی رقم موجود تھی، تو وہ محتاط اندازے کے مطابق اس کی تعیین کر کے کل مال کے ڈھائی فیصد کے حساب سے اس کی زکوٰۃ ادا کرے، اس طرح کرنے سے انشاء اللہ تعالی وہ شرعاً زکوٰۃ کی ذمہ داری سے سبکدوش ہوجائے گا۔
کما فی بدائع الصنائع: وبيان ذلك أنه إذا كان لرجل مائتا درهم أو عشرين مثقال ذهب فلم يؤد زكاته سنتين يزكي السنة الأولى، وليس عليه للسنة الثانية شيء عند أصحابنا الثلاثة. الخ (2/7)۔
وفی الھندیة: وتجب على الفور عند تمام الحول حتى يأثم بتأخيره من غير عذر، وفي رواية الرازي على التراخي حتى يأثم عند الموت، والأول أصح كذا في التهذيب. الخ (1/170)۔
وفی البحر الرائق: اعلم أن التحري يجري في مسائل منها الزكاة ( الی قولہ) والتحري ترجح أحدهما بغالب الرأي، وهو دليل يتوصل به إلى طرف العلم، وإن كان لا يتوصل به إلى ما يوجب حقيقة العلم ويلحق بالتحري في مسألة الزكاة الخ (2/268)۔