مفتی ایک مسئلہ سنا ہے کہ حدیث شریف میں ذکر ہے کہ قیامت کے قریب کی علامتوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ ایک ہی رمضان کے مہینے میں سورج اور چاند گرہن ہوگا، سنا ہے کہ دو سال پہلے ملک شام میں اور کسی اور ملک میں یہ واقعہ پیش آیا ، اب معلوم یہ کرنا ہے کہ یہ واقعہ ہوا ہے یا نہیں؟ اور ہوا ہے کہ تو آپﷺ نے اس بات کی پیشن گوئی کس بنیاد پر امت کو کی تھی، اور آگے اس واقعہ کے بعد قیامت کی علامات میں سے آپ ﷺ نے جو پیشن گوئیاں کی ہیں، اس کو سامنے رکھ کر موجودہ زمانہ کے اہل حق کو کس طرح قدم اٹھانے چاہیئں، اسلئے کہ آپ ﷺ ہونے والے سارے حالات بتاتے تھے، اور تاریخ بھی آگے کی روشنی کر رہی ہے، جیساکہ " البدیہ و النہایۃ" میں ہے ، پھر ان چیزوں کا مطالعہ نہ کرتے ہوئے آگے پڑھنا کیسا ہے؟
براہ کرم ہمیں اس مسئلہ کے بارے میں قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرماکر ثواب دارین حاصل کرکے مجھے اطمینانا دیجئے، تاکہ ہماری دنیا و آخرت دونوں بن جائیں، آمین
قیامت کا صحیح علم سوائے اللہ تعالٰی کے اور کسی کو نہیں ہے، روایات میں صرف آپ ﷺ نے علامات قیامت کو ذکر فرمایا ہے، کسی خاص تاریخ و سال کو متعین نہیں فرمایا، قیامت کی بڑی علامتیں جو کتب حدیث میں مذکور ہیں، ان میں کئی ایک کا ظہور بھی ہوچکا ہے، اور بہت سی ابھی تک باقی ہیں، البتہ ان علامات میں سب سے بڑی علامت ظہور مہدی ؑ ہے، لیکن مہدی کا ظہور بھی کسی خاص تاریخ کے ساتھ متعین نہیں کیا گیا، تاہم جس حدیث میں رمضان میں دو گرہن ہونے کا ذکر ہے وہ مندرجہ ذیل ہے:
کما فی سنن الدار قطنی: عن محمد بن علي , قال: «إن لمهدينا آيتين لم تكونا منذ خلق الله السماوات والأرض , ينخسف القمر لأول ليلة من رمضان , وتنكسف الشمس في النصف منه , ولم تكونا منذ خلق الله السماوات والأرض» الحدیث (ج2 صـ419 باب صفة صلاة الخسوف والكسوف وهيئتهما ، الناشر: مؤسسة الرسالة، بيروت – لبنان۔ الطبعة: الأولى، 1424 هـ - 2004 م)۔
اس حدیث سے تو یہ معلوم ہورہا ہے کہ اس رمضان کی پہلی تاریخ کو چاند گرہن ہوگا، اور اسی نصف رمضان کو سورج گرہن ہوگا، جبکہ اس حدیث کے رواۃ پر کلام ہونے کی وجہ سے یہ ضعیف اور ناقابل استدلال ہے، جیساکہ دار قطنی کی درج ذیل عبارت سے معلوم ہورہا ہے:
عمرو بن شمر عن جابر رضی اللہ عنہ کلاھما ضعیفان لایحتج بھما (التعلیق المغنی علی الدار قطنی)
اور اگر یہ حدیث صحیح مان بھی لی جائے، تو اس میں کسی خاص سال کی تعیین پھر بھی نہیں ہے، جیسے دیگر بہت سی علامات قیامت کا ظہور ہوچکا، اس کا بھی ظہور ہونے میں حرج نہیں، کیونکہ اس کے فوراً بعد وقوع قیامت کا کوئی تذکرہ نہیں،نیز پہلی تاریخ کو چاند گرہن مشکل ہے، اس لحاظ سے یہ ضعیف حدیث مشاہدےکے بھی خلاف ہے، جبکہ ان علامات کے مشاہدے کا انتظار کرنے کی بجائے اپنے اوقات کو اعمال صالحہ میں لگانے اور خرافات سے بچانے کی ضرورت ہے۔
کما قال اللہ تعالٰی: إِنَّ السَّاعَةَ آتِيَةٌ أَكَادُ أُخْفِيهَا لِتُجْزَى كُلُّ نَفْسٍ بِمَا تَسْعَى (15)سورۃ طہٰ)۔
و ایضاً قال اللہ عز وجل: إِنَّ اللَّهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْأَرْحَامِ وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ مَاذَا تَكْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ بِأَيِّ أَرْضٍ تَمُوتُ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ (34)سورۃ لقمان9۔
وفی تفسیر ابن کثیر: هذه مفاتيح الغيب التي استأثر الله تعالى بعلمها، فلا يعلمها أحد إلا بعد إعلامه تعالى بها؛ فعلم وقت الساعة لا يعلمه نبي مرسل ولا ملك مقرب، {لا يجليها لوقتها إلا هو} [الأعراف: 187] ( ج6 صـ352 سورۃ لقمان، الناشر: دار طيبة للنشر والتوزيع)۔
واللہ اعلم بالصواب