اسلام علیکم ورحمہ اللہ وبرکاتہ!حضرت مولانا ایک مسئلہ میں اسلامی نقطۂ نظر درکار ہے، مسئلہ یہ ہے کہ نکاح کے بعد یا شادی کے بعد حق مہر میں تبدیلی کی جاسکتی ہے یا نہیں؟ یا حق مہر میں کوئی چیز اضافی لکھوائی جاسکتی ہے یا نہیں ؟
طے شدہ مہر بیوی کا حق ہوتا ہے، وہ چاہے تو اس میں کمی یا پورا مہر بھی معاف کر سکتی ہے، جبکہ شوہر اگر چاہے تو طے شدہ مہر کے علاوہ کوئی چیز یارقم میں اضافہ کر سکتا ہے، چنانچہ میاں بیوی کی باہمی رضامندی سے تبدیلی ممکن ہے، مگر بغیر رضامندی کے طے شدہ مہر میں تبدیلی درست نہیں۔
كما في الفتاویٰ الهندية: الزيادة في المهر صحيحة حال قيام النكاح عند علمائنا الثلاثة، كذا في المحيط. فإذا زادها في المهر بعد العقد لزمته الزيادة، كذا في السراج الوهاج. هذا إذا قبلت المرأة الزيادة سواء كانت من جنس المهر أو لا من زوج أو من ولي، كذا في النهر الفائق۔اھ (1/312)
وفيها ايضاً: وإن حطت عن مهرها صح الحط، كذا في الهداية. ولا بد في صحة حطها من الرضا حتى لو كانت مكرهة لم يصح۔اھ (1/313)