جناب میں ایک گورنمنٹ سکول میں استاد ہوں اور میرے تعلق ایک دیہاتی علاقے سے ہے جہاں اکثر لوگ ان پڑھ ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ جب وہ لوگ اپنی بچوں کو سکول میں داخل کروانے آتے ہیں ،تو ان کو اپنی بچوں کی تاریخ پیدائش کا پتہ نہیں ہوتا ، اور اگر ہوتا بھی ہے تو ان بچوں کی عمر کافی زیادہ ہوتی ہے اور اگر ہم وہی تاریخ پیدائش لکھ دیتے ہیں، تو ان بچوں کو مستقبل میں کئی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑھتا ہے ،اس کی وجہ سے ہم ان کی عمر کم کر کے ۴ یا ۵ سال لکھ دیتے ہے۔ کیا شرعی لحاظ سے ایسا ٹھیک ہے یا نہیں ؟ اگر نہیں تو پھر کوئی متبادل حل بتائیں۔
اگر کسی بچے کی تاریخ پیدائش یقینی طور پر معلوم ہو ،تو مستقبل میں پیش آمدہ متوقع پریشانیوں کی وجہ سے ان کی عمریں کم لکھوانا تو جھوٹ پر مبنی عمل ہے جو کہ جائز نہیں ہے ،البتہ اگر کسی بچے کی صحیح عمر معلوم نہ ہو اور داخلہ رجسٹر میں اندازے سے کوئی تاریخ لکھی جائے ،جس میں کوئی کمی کوتاہی رہ جائے ،تو امید ہے کہ اس کی وجہ سے کوئی مؤاخذہ نہ ہوگا ۔
بیٹے کا والد سے معافی نہ مانگنے کے باوجود والد کے معاف کرنے سے بیٹا گناہ سے بری ہوگا؟
یونیکوڈ جھوٹ اور فریب 0اسٹوڈنٹ لانے پر یونیورسٹی سے کمیشن لینا-یونیورسٹی کا امتحان لیے بغیر, فیس لے کر سند جاری کرنا
یونیکوڈ جھوٹ اور فریب 0حتمی عمر معلوم نہ ہونے کی وجہ بچوں کی عمر اندازے سے کم لکھ دی جائے تو کیا یہ جائز ہوگا ؟
یونیکوڈ جھوٹ اور فریب 0یوٹیوب چینل پر کسی عالمِ دین کا درس سن کر, اسے استاد کہہ کر دوسروں اس کا درس پڑھانا
یونیکوڈ جھوٹ اور فریب 0