مفتی صاحب ! میرا سوال یہ ہے کہ حق مہر کیا ہے؟ کیا حق مہر اس کو کہتے ہیں کہ لڑکی کو اس کی شادی میں پانچ تولہ سونا یا یا دس تولہ ، جتنی استطاعت ہو لڑکا دیتا ہے، کیا یہ لڑکی کا حق مہر کہلائے گا؟ اور دوسرا سوال یہ ہے کہ کیا جس لڑکی کو طلاق ہوگئی تو اس کو حق مہر ملنا چاہیئے ؟ اور کیا جو لڑکی خلع لے اس کو حق مہر دینا چاہیئے ؟ مہربانی کر کے قرآن و حدیث کی رو سے مجھے اس کا جواب دیجئے ۔
(1) واضح ہو کہ شریعت میں حق مہر اس مال کو کہا جاتا ہے جو عقدِ نکاح کے نتیجے میں عورت سے ازدواجی تعلق قائم کرنے کے حق کے بدلے میں دیا جاتا ہے، اور اس کا ذکر مجلسِ نکاح میں ایجاب و قبول کے ساتھ کیا جاتا ہے، خواہ وہ سونا چاندی ہو یا نقدی ، یا کوئی بھی منقولہ یا غیر منقولہ جائیداد ہو، جس کی مالیت کم از کم دس درہم (30.612 گرام چاندی) کی قیمت کے برابر یا اس سے زائد ہو، اور زیادہ کی کوئی حد نہیں ۔
(2) اگر عورت کو ہمبستری یا خلوتِ صحیحہ کے بعد طلاق ہو گئی ہو تو اس کو طے شدہ پورا مہر دینا شوہر پر لازم ہوتا ہے، اور اگر خلوتِ صحیحہ سے پہلے ہی طلاق دی جائے تو اس صورت میں آدھا مہر دینا لازم ہوتا ہے۔
جبکہ خلع اگر باہمی رضامندی سے حق مہر کی معافی کے عوض دیا گیا ہو تو وہ شرعاً بھی معاف ہو جاتا ہے، اور عورت کو اس کے مطالبہ کا حق نہیں رہتا۔
كما في الدر المختار: ثم عرف المهر في العناية بأنه اسم للمال الذي يجب في عقد النكاح على الزوج في مقابلة البضع اما بالتسمية أو بالعقد۔اھ (3/102)
وفيه ایضاً: (وتجب) العشرة (إن سماها أو دونها و) يجب (الأكثر منها إن سمى) الأكثر۔اھ (3/102)
کما قال الله تعالى: وان طلقتموهن من قبل أن تمسوهن وقد فرضتم لهن فريضة فنصف ما فرضتم۔الآیة (البقرة: 237)
وفي الفتاویٰ الهندية: والمهر يتأكد بأحد معان ثلاثة: الدخول والخلوة الصحيحة وموت أحد الزوجين۔اھ (1/305)
كما في الفتاویٰ الهندية: ان خالعها على مهرها فان كانت المرأة مدخولاً بها وقد قبضت مهرها يرجع الزوج عليها بمهرها وان لم يكن مقبوضا سقط عن الزوج جميع ولا يتبع أحدهما صاحبه بشيء۔اھ (1/489)