ایک شخص نے اپنی بیوی کے حق مہر میں 20 تولے سونا لکھوایاآٹھ تولے سونا بوقت رخصتی ادا کیا گیا اور بقایا 12 تولے سونے سے کئی گناہ زیادہ 30 سالہ زندگی جو کہ سعودی عرب میں گذاري، بیوی کو پہنا یا لیکن ادا کرتے وقت مہر کی نیت نہیں کی اور نہ دیتے وقت اس سے لکھوایا کہ سند رھے اور نہ کبھی اس کو دیا ہوا سونااس سے واپس لیا
سوال : کیا شریعت کی رو سے یہ مہر میں لکھا ہوا 20 تولے سونا ادا ہو گیا ؟
سوال میں یہ صراحت نہیں کہ شخص مذکور کی بیوی بقیہ بارہ تولہ سونے کے متعلق کیا کہتی ہے ، تاہم شخص مذکور نے تیس سالہ زندگی میں جوکچھ زیورات میں سے دیا ہے اگر دیتے وقت مہر میں سے دینے کی تصریح نہ کی ہو تو یہ اسکی طرف سے تبرع شمار ہو گا، شخص مذکور کیلئے مہر علیحدہ ادا کرنا لازم ہو گا، البتہ اگر بیوی اس احسان کے بدلے شوہر کو مہر کا بقیہ حصہ معاف کرنا چاہے تو اس کا اسے اختیا ر ہے ، اور بیوی کو ایسا ہی کرناچاہیئے، مگر ایسا کرنا بیوی پر لازم نہیں۔
كما في الدر (ولو بعث إلى امرأته شيئا ولم يذكر جهة عند الدفع غير) جهة (المهر) كقوله لشمع أو حناء ثم قال إنه من المهر لم يقبل قنية لوقوعه هدية فلا ينقلب مهر اھ(151/3)
و في الشامية: (قوله ولو بعث إلى امرأته شيئا) أي من النقدين أو العروض أو مما يؤكل قبل الزفاف أو بعد ما بنى بها نهر (قوله ولم يذكر إلخ) المراد أنه لم يذكر المهر ولا غيره ط اھ(151/3)