السلام علیکم مفتیان کرام! ہمارے پہاڑی گاؤں میں ہفتے میں 6 دن درس و تدریس عوام کو اور ساتویں دن پر تبلیغی گشت اور مغرب کے بعد مطالبے کا بیان ہوتا ہے۔ ہمارے بعض تبلیغی حضرات اس مطالبے کے بیان کو صرف افضل سمجھ کر بیٹھتے ہیں۔ درس و تدریس میں بالکل دلچسپی نہیں لیتے۔ تو کیا تدریس قرآن سے مطالبے کا بیان ثواب میں افضل ہیں ؟ اگر نہیں تو ان حضرات کے لیے ایک وعظ نصیحت احادیث وغیرہ بھیج دیں تا کہ آئندہ درس و تدریس میں شرکت کریں۔ جزاکم اللہ خیرا احسن الجزاء!
تبلیغ کے کام اور گشت کا مقصد ہی فضائل سنا کر مسلمانوں کو تعلیم قرآن اور احکام شرع سیکھنے اور اسکے مطابق عمل کرنے پر لانا ہے، لہذا اس کے افضل ہونے میں کوئی شبہ نہیں، جبکہ دین کے مختلف کاموں میں باہمی تقابل و منافرت کا ماحول پیدا کرنا اور اس کی وجہ سے عوام میں فتنہ و انتشار پھیلانا درست نہیں، اس لئے پیار و محبت سے فریقین کو سمجھا کر متحد رکھنے کی کوشش کی جائے، جو جتنا وقت کسی بھی دینی کام کا اخلاص کے ساتھ دے اس کی حوصلہ افزائی کی جائے۔ ان شاء اللہ اس سے دونوں جانب کے حضرات کا فائدہ ہو گا۔