25 نومبر 2017 کو میری شادی ہو گئی ، جہیز اور بری میں کل ملاکر 5 تولہ سونا میری ملکیت میں آیا ، جو اب تک موجود ہے ستمبر 2018 میں میرے شوہر نے میرے لئے ایک بھینس خریدی جس کی مالیت 90 ہزار روپے ہیں وہ بھی میری ملکیت میں ہے اس کے علاوہ کوئی نقد نہیں ہے اور نہ ہی ابھی کوئی ملازمت ہے اس پر ٹوٹل زکوٰۃ کیا بنتی ہے؟
صورت مسئولہ میں سائلہ کے پاس اگر مذکور پانچ تولہ سونا کے ساتھ تھوڑی بہت بھی نقدی ہو تو اس کی کل مالیت پر ڈھائی فیصد کے حساب زکوۃ لازم ہے البتہ اگر نقد رقم بالکل بھی نہ ہو تو چونکہ پانچ تولہ سونا نصاب سے کم ہے اس لئے اس پر زکوۃ لازم نہ ہوگی، جبکہ مذکوز بھینس جو سائلہ کے شوہر نے اسے گفٹ کی ہے اس پر زکوۃ لازم نہیں۔