جنت

کیا جنتی و جہنمی ہونے کا معیار حب اہل بیت ہے؟

فتوی نمبر :
36890
| تاریخ :
2020-10-26
عقائد / قیامت و آخرت / جنت

کیا جنتی و جہنمی ہونے کا معیار حب اہل بیت ہے؟

میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ اہل بیت کی محبت ایمان کی شرائط میں شامل ہے اور کوئی شخص چاہے جتنا بھی نیک اعمال کیوں نہ کرے، اہل بیت کی محبت کے بغیر جنت میں نہیں جا سکے گا اور کوئی شخص چاہے کتناہی برا کیوں نہ ہو، اہل بیت کی محبت کی وجہ سے جنت میں چلا جائے گا اور کیا اہل بیت آخرت میں لوگوں کے جنتی یاجہنمي ہونے کا فیصلہ کریں گے یا لوگوں کی سفارش کریں گے؟ بہت سے لوگوں کا یہ ماننا ہے کہ اہل بیت کی محبت کے بغیر ایمان مکمل نہیں ہو تا اور انسان جنتی نہیں ہو سکتا، اگر کوئی شخص ایمان پر توشک نہیں کرتا، لیکن سیاسی اور تاریخی معاملات میں ان پر تنقید کر تا ہے تو کیا اس کا ایمان باقی رہے گا اور کیا اہل بیت دنیاوی، تاریخی اور سیاسی معاملات میں تنقید سے بالا تر ہیں؟ کچھ لوگ اہل بیت کی محبت کو بنیاد بنا کر دیگر صحابہ کرام پر تنقید کرتے ہیں اور جواب میں جب اہل بیت پر تنقید کر دی جائے تو کہتے ہیں کہ اپنے ایمان کی فکر کریں؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

دیگر اعمال و عقائد کو نظر انداز کر کے فقط اہل بیت کی محبت کا نعرہ لگا کر اس بنیاد پر لوگوں کو جنتی یا جہنمی قرار دینے کی تو شریعت میں کوئی اجازت اور حیثیت نہیں، بلکہ جنتی یا جہنمی ہونے کادارو مدار نبی کریمﷺ کے بتائے ہوئے اعمال و عقائد کو اپنانے یا ترک کرنے پر ہے، تاہم تمام صحابہ کرام اور خصوصاً اہل بیت رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ساتھ محبت یا عداوت رکھنے کو نبی کریم ﷺ نے اپنے اور اللہ تعالی کے ساتھ محبت یاعد اوت رکھنے کے مترادف قرار دیا ہے ، لہٰذا تاریخی لحاظ سے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے درمیان ہونے والے واقعات پر تبصرہ یا تنقید کرنے میں چونکہ عام لوگوں سے صحابہ کرام کی شان میں بے ادبی اور بے احترامی کا اندیشہ ہے، اس لیے اس حوالے سے بہترین موقف یہ ہے کہ ان کے متعلق سکوت اختیار کیا جائے ، لہٰذا عام لوگوں کو ان واقعات کے متعلق تبصرے کرنے کے بجائے خاموشی اختیار کرنی چاہیے۔

مأخَذُ الفَتوی

ففي مرقاۃ المفاتیح: و عن أبي سعيد الخدري - رضي الله عنه - قال: قال النبي - صلى الله عليه وسلم -: ( ’’لا تسبوا أصحابي، فلو أن أحدكم أنفق مثل أحد ذهبا ما بلغ مد أحدهم ولا نصيفه‘‘ ) متفق عليه.
في مرقاۃ المفاتیح:تحت ھذا الحدیث، والصحابة كلهم عدول مطلقا لظواهر الكتاب والسنة وإجماع من يعتد به. و في شرح السنة قال أبو منصور البغدادي: أصحابنا يجمعون على أن أفضلهم الخلفاء الأربعة على الترتيب المذكور، ثم تمام العشرة، ثم أهل بدر، ثم أحد، ثم بيعة الرضوان، ومن له مزية من أهل العقبتين من الأنصار، وكذلك السابقون الأولون، وهم من صلى إلى القبلتين، (إلٰی قوله): والحروب التي جرت بينهم كانت لكل طائفة شبهة اعتقدت تصويب أنفسها بسببها، وكلهم متأولون في حروبها، ولم يخرج بذلك أحد منهم من العدالة ; لأنهم مجتهدون اختلفوا في مسائل، كما اختلف المجتهدون بعدهم في مسائل، ولا يلزم من ذلك نقص أحد منهم اھـ (۱۰/۳۵۵)
وفي المشکاۃ مع مرقاۃ المفاتیح: وعن عبد الله بن مغفل - رضي الله عنه - قال: قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم -:(’’الله الله في أصحابي، الله الله في أصحابي، لا تتخذوهم غرضا من بعدي، فمن أحبهم فبحبي أحبهم، ومن أبغضهم فببغضي أبغضهم، ومن آذاهم فقد آذاني، ومن آذاني فقد آذى الله، ومن آذى الله فيوشك أن يأخذه‘‘). رواه الترمذي وقال: هذا حديث غريب اھـ (۱۰/۳۶۴)۔
وفيها ایضاً: وعن ابن عباس قال: «لما نزلت: {قل لا أسألكم عليه أجرا إلا المودة في القربى} [الشورى: 23] قالوا: يا رسول الله من قرابتك هؤلاء الذين وجبت علينا مودتهم؟ قال: " علي وفاطمة وابناهما» ". أخرجه أحمد في المناقب اھـ (۱۰/۵۱۰)
وفی صحيح البخاري: عن ابن عمر، رضي الله عنهما قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " بني الإسلام على خمس: شهادة أن لا إله إلا الله وأن محمدا رسول الله، وإقام الصلاة، وإيتاء الزكاة، والحج، وصوم رمضان "(1/ 11)
وفی صحيح مسلم: عن زید بن ارقم رضی اللہ عنه قال: قام رسول الله صلى الله عليه وسلم يوما فينا خطيبا، بماء يدعى خما بين مكة والمدينة فحمد الله وأثنى عليه، ووعظ وذكر، ثم قال: " أما بعد، ألا أيها الناس فإنما أنا بشر يوشك أن يأتي رسول ربي فأجيب، وأنا تارك فيكم ثقلين: أولهما كتاب الله فيه الهدى والنور فخذوا بكتاب الله، واستمسكوا به " فحث على كتاب الله ورغب فيه، ثم قال: «وأهل بيتي أذكركم الله في أهل بيتي، أذكركم الله في أهل بيتي، أذكركم الله في أهل بيتي» فقال له حصين: ومن أهل بيته؟ يا زيد أليس نساؤه من أهل بيته؟ قال: نساؤه من أهل بيته، ولكن أهل بيته من حرم الصدقة بعده، قال: ومن هم؟ قال: هم آل علي وآل عقيل، وآل جعفر، وآل عباس قال: كل هؤلاء حرم الصدقة؟ قال: نعم اھ (4/ 1873)
و فی سنن الترمذی: حدثنا عبد بن حمید قال: (إلٰی قوله) فقال: ((یا معشر قریش أنقذوا أنفسکم من النار فإنی لا أملأ من اللہ ضرا ولا نفعًا (إلٰی قوله) یا فاطمة بنت محمد أنقذی نفسك من النار فإنی لا أملك لك ضرا ولا نفعًا۔ الخـ (۵/۳۳۸) واللہ أعلم بالصواب!

واللہ تعالی اعلم بالصواب
فروخ عبدالمجید عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 36890کی تصدیق کریں
0     1183
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • جنت میں مسلمانوں کے لئے حور و غلمان

    یونیکوڈ   اسکین   جنت 0
  • کیا جنت میں غلمان سے صحبت بھی جائز ہوگی؟

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   جنت 3
  • جہاد کے لئے والدین کی اجازت کی شرعی حیثیت

    یونیکوڈ   جنت 1
  • دنیا میں پسندیدہ خاتون سے جنت میں ملاقات ممکن ہے یا نہیں؟

    یونیکوڈ   جنت 1
  • جس عورت کے ایک سے زائد نکاح ہو چکے ہوں، وہ جنت میں کس شوہر کے ساتھ ہوگی؟

    یونیکوڈ   جنت 1
  • محض مسلم یا غیر مسلم گھرانے میں پیدا ہونے کی وجہ سے جنتی یا جہنمی ہونے کا اطلاق نہیں ہوتا

    یونیکوڈ   جنت 0
  • کیا جنتی و جہنمی ہونے کا معیار حب اہل بیت ہے؟

    یونیکوڈ   جنت 0
  • جنتی اللہ تعالیٰ کے سلام کا جواب کن الفاظ میں دیں گے؟

    یونیکوڈ   جنت 0
  • جنت کی حوروں کا مادۂ تخلیق

    یونیکوڈ   جنت 0
  • دیدارِ خداوندی سے متعلق اہلِسنت و الجماعۃ کا عقیدہ و نظریہ

    یونیکوڈ   جنت 0
  • جنت میں حضرت آسیہؓ اور حضرت مریم رضی اللہ عنہما کا آپؐ کی ازواج میں شامل ہونا

    یونیکوڈ   جنت 0
  • کیا جنت میں محبوب پرندہ بھی ساتھ ہوگا؟

    یونیکوڈ   جنت 0
  • جس عورت نے دو شادیاں کی ہوں وہ جنت میں کس شوہرکےساتھ ہوگی؟

    یونیکوڈ   جنت 0
  • کیا جنت میں بیوی کو یہ اختیار ہوگا کہ وہ اپنے دنیاوی شوہر کے ساتھ نہ رہے؟

    یونیکوڈ   جنت 0
  • جنت میں اعمال کے مطابق درجات و مقامات کا بیان

    یونیکوڈ   جنت 0
Related Topics متعلقه موضوعات