زکوۃ و نصاب زکوۃ

کیا بزنس میں لگائے ہوئے پیسوں پر زکوۃ ادا کرنی ہوگی؟

فتوی نمبر :
36360
| تاریخ :
عبادات / زکوۃ و صدقات / زکوۃ و نصاب زکوۃ

کیا بزنس میں لگائے ہوئے پیسوں پر زکوۃ ادا کرنی ہوگی؟

جو پیسے کسی بزنس میں لگائے ہو، کیا ان پر زکوٰۃ ادا کرنا ہو گی ؟ (2) اگر کسی کے پاس دس تولہ سونا ہے تو وہ دس تولہ پر زکوٰۃ ادا کرے گا یا ساڑھے ساتھ تو لہ نکالنے کے بعد باقی ڈھائی تولہ سونے پر؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

بزنس میں لگائے جانے والے پیسے اگر ساڑھے باون تولہ چاندی سے زائد ہوں یا دوسرے قابل زکوٰۃ اموال کے ساتھ ملا کر اس کی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کو پہنچ رہی ہو اور ان پیسوں پر قمری سال بھی گزر جائے تو اس تجارتی رقم پر ڈھائی فیصد کے حساب سے زکوۃ لازم ہو گی اسی طرح جو سونا دس تولہ کی مقدار میں موجود ہے، سال گزرنے کے بعد بھی یہی مقدار مالک کے پاس موجود رہے تو پورے دس تولہ پر زکوٰۃ لازم ہوگی۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 36360کی تصدیق کریں
0     15
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات