کیا میں اپنے بھائی کو زکوۃ دے سکتا ہوں ، جب کہ مجھے یہ معلوم ہے کہ اس کے پاس سونا موجود ہے، لیکن وہ میرے والد نے اسے شادی کے موقع پر بطور تحفہ دیا تھا ، میرے بھائی کی مالی حالت کمزور ہے وہ زیادہ نہیں کھاتا ، میرے بھائی کے پاس جو سونا ہے وہ اپنی تین بیٹیوں کے لئے رکھا ہے، برائے مہربانی میری رہنمائی فرما کہ میں اپنے بھائی کی مدد کے لئے اس کو اپنی زکوۃ میں سے دے سکتا ہوں؟
سائل کے بھائی کی ملکیت میں اگرنصاب زکوۃ ( ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت) کے بقدر سونا، چاندی، نقد رقم اور ضروریات اصلیہ سے زائد سامان موجود ہو تو وہ زکوة کا مستحق نہیں ہے، سائل اپنے اس بھائی کو زکوۃ کی مد سے نہیں دے سکتا ، البتہ اگر ان کے ساتھ تعاون کرنا مقصود ہو تو پہلے وہ اپنے پاس موجود نصاب کو استعمال کر کے مقدار نصاب سے کم کر دے پھر سائل اس بھائی کو زکوۃ کی مد سے دے، یا ان کے کسی مستحق بیٹے ، بیٹی کو زکوۃ کی رقم کا مالک بنا کر ان کی معاونت کرے، چنانچہ ایسا کرنے سے سائل کی زکوۃ بھی ادا ہو جائے گی اور بھائی کی ضرورت بھی پوری ہوگی۔
ففي تنوير الأبصار : باب المصرف : ( هو فقير ، وهو من له أدنى شيئ ) ( ومسكين من لا شيء له وعامل فيعطى ( إلى قوله ) ( وكره إعطاء فقير نصاباً إلا إذا كان مديونا أو صاحب عيال) (إلى قوله ) ( ولا بينهما ولاد ولا زوجية ) .
و في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): (قوله: لا يملك نصابا) قيد به؛ لأن الفقر شرط في الأصناف كلها (إلی قوله) وقيد بالولاد لجوازه لبقية الأقارب كالإخوة والأعمام والأخوال الفقراء بل هم أولى؛ لأنه صلة وصدقة. اھ (2/ 346)
في الفقه الحنفي وأدلته: الثانية : غني يحرم عليه السؤال والأخذ ، ويجب عليه صدقة الفطر، والأضحية وهو أن يملك ما قيمته نصاب ، فاضلاً عن الحوائج الأصلية من غير أموال الزكاة ، كالثياب، والعقار والمركب و نحوه اھ (۱/ ۳۶۹)
وفيه أيضاً : إن الأفضل في الزكاة ، والفطرة والنذور الصرف أولاً إلى الإخوة والأخوات الفقراء ، ثم إلى اولادهم الفقراء اھ ( ۱/ ۳۷۴) والله أعلم بالصواب