میرے زکوٰۃ کے متعلق دو سوال ہیں: (۱) میرے دو چھوٹے چھوٹے پلاٹ ہیں۔ جن کی کل قیمت اتنی نہیں ہیں کہ ایک مناسب قابل رہائش مکان لیا جا سکے جیسے ۱۲۰ گز کا، میں نے یہ پلاٹ اس لیے رکھے ہوئے ہیں کہ ان کی قیمت بڑھ جائے اور کچھ اور رقم جمع ہو جائے تو میں ان سب پیسوں سے ملا کر ایک مکان لے لوں ۔ فلحال میں کرا یہ کے مکان میں رہتا ہوں، تو کیا ان پلاٹ پر زکوٰۃ واجب ہے؟ (2) میرے پاس کچھ نقد ہے لیکن میری گاڑی قرض کی ہے اور قرض کی رقم نقد سے کہیں زیادہ ہے کیا اس نقد رقم پر زکوٰۃ ہو گی؟
1۔جب سائل نے دو پلاٹ اس نیت سے خریدے ہیں کہ قیمت بڑھنے پر بوقت اسے فروخت کر دیں گے تو یہ مال تجارت کے حکم میں داخل ہے اور اس مالیت پر زکوٰۃ بھی واجب ہے۔
2۔قرض کی رقم منہا کرنے کے بعد اگر سائل کے پاس نصاب (ساڑے باون تولہ چاندی یا اس کی مالیت کے بقدر رقم یا مال تجارت بچ جائے تو سائل پر زکوٰۃ واجب ہو گی ورنہ نہیں۔
كمافي الدر المختار: ولو نوى التجارة بعد العقد أو اشترى شيئا للقنية ناويا أنه إن وجد ربحا باعه لا زكاة عليه كما لو نوى التجارة فيما خرج من أرضه اھ (2/ 274)