اگر کسی کا یہ ماننا ہو کہ (نبی پاک) اپنی قبر مبارک میں بالکل ویسے ہی زندہ ہیں جیسا کہ چودہ سو سال پہلے تھے، سے متعلق کیا حکم ہو گا؟ اس کے با وجود اس کے ساتھ یہ عقیدہ بھی ہو کہ نبی پاک کا بھی کچھ لمحے کے لیے انتقال ہوا تھا، کیونکہ قرآن میں کچھ اس طرح ہے کہ سب کو مرنا ہے، اس کے بعد اپنی قبر مبارک میں زندہ ہیں، اس کا کیا حکم ہے؟
نبی کریمﷺ اپنے روضہ مبارک میں حیات ہیں اور آپ کی حیات برزخی مثل دنیاوی حیات، بلکہ اس سے بھی اعلی و ارفع ہے، اس لیے حدیث مبارک کی رو سے جوشخص روضہ اطہر کے پاس آپ ﷺ پر درود پڑھتا ہے تو آپ ﷺ اس کوخود سنتے ہیں او رجواب بھی مرحمت فرماتے ہیں اور جو شخص دور سےدرود پڑھتا ہے تو اللہ رب العزت فرشتوں کے ذریعے اس کو آپ ﷺ تک پہنچاتے ہیں اور یہی عقیدہ اہلسنت والجماعت کا ہے، لہٰذا ایسا عقيدہ رکھنے والا شخص درست عقیدہ کا حامل ہے ۔
ففي مرقاة المفتاتیح: (ٳن اللہ حرم علی الأرض ٲجساد الانبیاء)ٲي من ٲن تأکلھا، فإن الأنبیاء في قبورھم ٲحیاء اھـ (۳/۴۵۴)۔
وفی مسند أبی یعلیٰ: عن أنس بن مالك أن رسول اللہ صلی اللہ علیه وسلم قال: الأنبیاء ٲحیاء في قبورھم یصلون اھ (۶/۱۴۸) واللہ أعلم!
کسی بزرگ کا انتقال کے بعد لوگوں کے پکارنے پر ان کی مدد کےلۓ حاضر ہونا-اور اس کا عقیدہ رکھنا
یونیکوڈ احوال قبر 0