زکوۃ و نصاب زکوۃ

کیا سید قرض اتارنے کے لئے زکوٰۃ لے سکتا ہے؟

فتوی نمبر :
33710
| تاریخ :
عبادات / زکوۃ و صدقات / زکوۃ و نصاب زکوۃ

کیا سید قرض اتارنے کے لئے زکوٰۃ لے سکتا ہے؟

کیا کسی سید پر قرض ہو تو زکوٰۃ کے ذریعہ وہ اپنا قرض ادا کرسکتا ہے ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ کسی سید کے لیے زکوٰۃ کی رقم وصول کرناجائز نہیں ، لہذا اگرسید مقروض ہو تو زکوٰۃ کی رقم لیکر اس کے ذریعے اپنا قرض ادا کرنا درست نہیں، تاہم سادات نبی کریم ﷺ کے خاندان میں سے ہیں ، اور ان کے ساتھ تحفے تحائف کے ذریعے تعاون کرنا بہت بڑے اجر وثواب کا کام ہے، لہذا غریب اور محتاج سیدوں کے ساتھ تحفے تحائف کے ذریعے تعاون کرنا چاہیے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی البحرالرئق: (قوله وبني هاشم ومواليهم) أي لا يجوز الدفع لهم لحديث البخاري «نحن - أهل بيت - لا تحل لنا الصدقة» ولحديث أبي داود «مولى القوم من أنفسهم، وإنا لا تحل لنا الصدقة»الخ (2/256)۔
و فی الدرالمختار: (و) لا إلى (بني هاشم) (الی قولہ) ثم ظاهر المذهب إطلاق المنع، الخ (2/350)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
قاسم على رفيع عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 33710کی تصدیق کریں
0     6
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات