زکوۃ و نصاب زکوۃ

کیا دوسرا گھر خریدنے کے لئے رکھی ہوئی رقم پر زکوۃ لازم ہے؟

فتوی نمبر :
33093
| تاریخ :
عبادات / زکوۃ و صدقات / زکوۃ و نصاب زکوۃ

کیا دوسرا گھر خریدنے کے لئے رکھی ہوئی رقم پر زکوۃ لازم ہے؟

السلام علیکم
میرا سوال گھر کی فروختگی کی کاروائی پر زکوٰۃ سے متعلق ہے۔ ایک گھر میری ملکیت میں ہے جس کو میں نے کرائے پر دیا اور خالص کرائے کی آمدن جو میں اس سے وصول کرتا ہوں اس پر زکوٰۃ ادا کرتاہوں، لیکن کچھ ذاتی وجوہات کی بنا پر میں وہ گھر فروخت کر رہا ہوں اور اس سے چھوٹا گھر خرید رہا ہوں ۔ میں اپنی مکمل زکوٰۃ جو میرے مالیت پر لگتی ہے ہر سال یکم محرم الحرام کو ادا کرتا ہوں سوائے گھر کی قیمت کے، جبکہ میرا صرف یہی گھر ہے، اور میری سمجھ کے مطابق اس کی قیمت زکوٰۃ سے مستثنیٰ ہے۔
سوال : فرض کیجئے کہ بیچنے اور خرید نے کی قیمت دونوں گھروں کی برابر ہے ۔ پھر کیا میں زکوٰة بعد ادا کرونگا ؟اگر میں یہ گھر ذو الحجہ کو بیچونگا اور نئے گھر کی پیمنٹ کرونگا محرم میں ، زکوٰۃ کے حساب کی تاریخ کے بعد ؟ مثال کے طور پر میں ذوالحجہ میں 10000 $ وصول کرتا ہوں اور مجھے اگلے مہینہ محرم میں اپنے نئے گھر کے لیے قیمت ادا کرنی ہے ۔ پھر جب اپنی مالیت کا حساب کرونگا یکم محرم کو کیا میں یہ رقم بھی اپنی مالیت میں شامل کرونگا اور اس پر زکوٰۃ ادا کرونگا یا یہ معاف ہوگا ؟ چونکہ یہ صرف وقت کا فاصلہ ہے اور مجھے اتنی ہی رقم اگلے مہینہ ادا کرنی ہے پرانے گھر کو نئے سے بدلنے کے لیے۔
دوسری بات: یوں کہا جائے کہ اگر میں اس رقم کو نقد فرض کر لوں میرے زکوٰۃ کے حساب میں، مگر یہ میرے اکاؤنٹ میں صرف ایک مہینہ کے لیے ہے اور زکوٰۃ اس رقم پر صرف سال گزرنے کے بعد ہی واجب ہوگی ؟ برائے کرم اس معاملہ میں مجھے مشورہ دے۔ شکریہ ۔ والسلام

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

کرایہ پر دیے ہوئے مکان کو فروخت کرنے کے بعد جو رقم وصول ہوگی اگر زکوۃ کی تاریخ آنے سے قبل اس رقم سے سائل نے کوئی اور مکان نہیں خریدا تو دیگر اموال زکوٰۃ کے ساتھ مذکور رقم کی زکوة ادا کرنا بھی لازم ہے، اور سائل چونکہ پہلے سے صاحب نصاب ہے اس لیے مذکور رقم پر سال کا گزرنا بھی ضروری نہیں۔

مأخَذُ الفَتوی

كما في الفتاوى الهندية: ومن كان له نصاب فاستفاد في أثناء الحول مالا من جنسه ضمه إلى ماله وزكاه المستفاد من نمائه أولا وبأي وجه استفاد ضمه سواء كان بميراث أو هبة أو غير ذلك ولو كان من غير جنسه من كل وجه كالغنم مع الإبل فإنه لا يضم هكذا في الجوهرة النيرة اھ (1/ 175)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 33093کی تصدیق کریں
0     5
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات