جناب مفتی صاحب! السلام علیکم!
ایک دوست کافی عرصہ سے بحث کر رہا ہے کہ قبر میں عذاب نہیں ہوتا ، نہ ہی منکر نکیر سوال کرتے ہیں، کیونکہ قرآن میں نہیں آیا ہے کہ عذاب قبر ہوگا اور یہ کہ منکر نکیر قبر میں سوال کریں گے۔ جناب! آپ اس مسئلہ میں فتویٰ دیں، کیونکہ شاید میرا دوست گمراہ ہو رہا ہے اور مزید لوگوں کو بھی گمراہ کر رہا ہے۔
اہل سنت والجماعت کا عقیدہ ہے کہ قبر کا عذاب و ثواب اور منکر نکیر کا سوال کرنا برحق ہے، ائمہ اربعہ اس پر متفق ہے، جبکہ اس بارے میں قرآن وحدیث کی متعدد نصوصِ متواترہ وارد ہیں جو ذیل میں نقل کی جارہی ہیں، مگر یہ عذاب دنیاوی آنکھوں سے نظر نہیں آسکتا، اس لیے کہ یہ عالمِ برزخ سے متعلق ہے جیسا کہ سونے والا کوئی اچھا یا برا خواب دیکھ رہا ہو تو ساتھ بیٹھنے والے کو اس کا احساس تک نہیں ہوتا، مزید تفصیل کے لیے ’’تسکین الصدور فی احوال الموتیٰ فی البرزخ والقبور‘‘ (مؤلفہ مولانا سرفراز خان صفدر مدظلہ) اور دیگر کتبِ عقائد کا مطالعہ مفید رہےگا، جبکہ سائل کے مذکور دوست کا یہ طرزِ عمل انتہائی خطرناک ہے جو موجبِ ضلالت کے علاوہ موجبِ کفر بھی بن سکتا ہے، کیونکہ یہ ایسا عقیدہ ہے جس کے بغیر ایمان کی تکمیل نہیں، اس لیے اُسے اپنے مذکور طرزِ عمل سے احتراز لازم ہے۔
و قال اللہ تعالیٰ: ﴿وَلَوْ تَرَى إِذِ الظَّالِمُونَ فِي غَمَرَاتِ الْمَوْتِ وَالْمَلَائِكَةُ بَاسِطُو أَيْدِيهِمْ أَخْرِجُوا أَنْفُسَكُمُ الْيَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْهُونِ بِمَا كُنْتُمْ تَقُولُونَ عَلَى اللَّهِ غَيْرَ الْحَقِّ وَكُنْتُمْ عَنْ آيَاتِهِ تَسْتَكْبِرُونَ﴾ (الأنعام: 93)
خروجِ نفس اور روح کے بعد ’’الْيَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْهُونِ‘‘ میں جس عذاب کا ذکر کیا گیا ہے یہی اصطلاحِ شریعت میں عذابِ قبر اور عذابِ برزخ کہلاتا ہے۔ ( ماخوذ از کتاب الروح:ص:۹۳)
و قال اللہ تعالیٰ: ﴿وَلَوْ تَرَى إِذْ يَتَوَفَّى الَّذِينَ كَفَرُوا الْمَلَائِكَةُ يَضْرِبُونَ وُجُوهَهُمْ وَأَدْبَارَهُمْ وَذُوقُوا عَذَابَ الْحَرِيقِ﴾ (الأنفال: 50)
مرنے کے بعد جو ’’عَذَابَ الْحَرِيقِ‘‘ کافروں کا چکھایا جائےگا وہی عذابِ قبر اور عذاب ِبرزخ ہے۔
وقال اللہ تعالیٰ: ﴿النَّارُ يُعْرَضُونَ عَلَيْهَا غُدُوًّا وَعَشِيًّا وَيَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ أَدْخِلُوا آلَ فِرْعَوْنَ أَشَدَّ الْعَذَابِ﴿ (غافر: 46)
اس ارشاد سے صاف طور پر معلوم ہوا کہ صبح و شام یعنی دوام و استمرار کے ساتھ فرعون کو آگ کے عذاب پر پیش کیا جاتا ہے اور وہی عذابِ قبر اور عذابِ برزخ کہلاتا ہے، کیونکہ قیامت کا عذاب تو ’’يَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ‘‘ کے الفاظ سے بیان کیا گیا ہے جو ’’أَشَدَّ الْعَذَابِ‘‘ ہوگا۔
و قال اللہ تعالیٰ: ﴿مِمَّا خَطِيئَاتِهِمْ أُغْرِقُوا فَأُدْخِلُوا نَارًا فَلَمْ يَجِدُوا لَهُمْ مِنْ دُونِ اللَّهِ أَنْصَارًا﴾ (نوح: 25)
اس آیتِ کریمہ سے معلوم ہوا کہ حضرت نوح علیہ السلام کی مجرم قوم غرقاب ہوتے ہی فوراً عذاب میں مبتلا ہو گئی جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اس سے مراد عذابِ قبر ہے۔
ففی صحيح البخاري: عن موسى بن عقبة، قال: حدثتني ابنة خالد بن سعيد بن العاص، أنها سمعت النبي - صلى الله عليه وسلم - : وهو «يتعوذ من عذاب القبر» اه(2/ 99)
وفی صحيح مسلم: عن أبي هريرة: «عن النبي - صلى الله عليه وسلم - أنه كان يتعوذ من عذاب القبر، وعذاب جهنم، وفتنة الدجال» اه(1/ 413)
وفی صحيح البخاري: عن عائشة، زوج النبي - صلى الله عليه وسلم -: أن يهودية جاءت تسألها، فقالت لها: أعاذك الله من عذاب القبر، فسألت عائشة رضي الله عنها رسول الله - صلى الله عليه وسلم -: أيعذب الناس في قبورهم؟ فقال رسول الله - صلى الله عليه وسلم -: «عائذا بالله من ذلك» اه(2/ 36)
وفی صحيح مسلم: عن أنس، أن النبي - صلى الله عليه وسلم - ، قال: «لولا أن لا تدافنوا لدعوت الله أن يسمعكم من عذاب القبر» اه(4/ 2200)
وفی فتح الباري لابن حجر: حدثنا عبدان، أخبرني أبي، عن شعبة، سمعت الأشعث، عن أبيه، عن مسروق، عن عائشة رضي الله عنها: أن يهودية دخلت عليها، فذكرت عذاب القبر، فقالت لها: أعاذك الله من عذاب القبر، فسألت عائشة رسول الله صلى الله عليه وسلم عن عذاب القبر، فقال: «نعم، عذاب القبر» قالت عائشة رضي الله عنها: فما رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم بعد صلى صلاة إلا تعوذ من عذاب القبر زاد غندر: «عذاب القبر حق» اھ(3/ 235)
وفی شرح النووي على مسلم: وَالتَّعَوُّذِ مِنْهُ اعْلَمْ أَنَّ مَذْهَبَ أَهْلِ السُّنَّةِ إِثْبَاتُ عَذَابِ الْقَبْرِ وَقَدْ تَظَاهَرَتْ عَلَيْهِ دَلَائِلُ الْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ قَالَ اللَّهُ تَعَالَى النَّارُ يُعْرَضُونَ عَلَيْهَا غدوا وعشيا الْآيَةَ وَتَظَاهَرَتْ بِهِ الْأَحَادِيثُ الصَّحِيحَةُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ)۔(إلی قوله) وَقَدْ ذَكَرَ مُسْلِمٌ هُنَا أَحَادِيثَ كَثِيرَةً فِي إِثْبَاتِ عَذَابِ الْقَبْرِ وَسَمَاعِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَوْتَ مَنْ يُعَذَّبُ فِيهِ وَسَمَاعِ الْمَوْتَى قَرْعَ نِعَالِ دَافِنِيهِمْ وَكَلَامِهُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِأَهْلِ الْقَلِيبِ وَقَوْلِهُ مَا أَنْتُمْ بِأَسْمَعَ مِنْهُمْ وَسُؤَالِ الْمَلَكَيْنِ الْمَيِّتَ وَإِقْعَادِهِمَا إِيَّاهُ وَجَوَابِهُ لَهُمَا وَالْفَسْحِ لَهُ فِي قَبْرِهِ وَعَرْضِ مَقْعَدِهِ عَلَيْهِ بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ اه(17/ 201،۲۰۰)
وفی شرح العقائد: وعذاب القبر للكافرین ولبعض عصاة المؤمنین وتنعیم اهل الطاعة فی القبر نما یعلمه اللہ تعالیٰ ویریده اھ (ص:۹۹)
وفی مشكاة المصابيح: عن أنس بن مالك - رضي الله عنه - أنه حدثهم أن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - قال: «إن العبد إذا وضع في قبره وتولى عنه أصحابه وإنه ليسمع قرع نعالهم أتاه ملكان فيقعدانه فيقولان ما كنت تقول في هذا الرجل لمحمد - صلى الله عليه وسلم - فأما المؤمن فيقول أشهد أنه عبد الله ورسوله فيقال له انظر إلى مقعدك من النار قد أبدلك الله به مقعدا من الجنة فيراهما جميعا قال قتادة وذكر لنا أنه يفسح له في قبره الخ» اھ (1/ 45)
کسی بزرگ کا انتقال کے بعد لوگوں کے پکارنے پر ان کی مدد کےلۓ حاضر ہونا-اور اس کا عقیدہ رکھنا
یونیکوڈ احوال قبر 0