زکوۃ و نصاب زکوۃ

کیا ہر ایک مہینہ کی تنخواہ کا زکوۃ میں حساب لگانا ضروری ہے؟

فتوی نمبر :
32373
| تاریخ :
عبادات / زکوۃ و صدقات / زکوۃ و نصاب زکوۃ

کیا ہر ایک مہینہ کی تنخواہ کا زکوۃ میں حساب لگانا ضروری ہے؟

مفتی صا حب!
میرا سوال یہ ہے کہ اللہ کے فضل سے میں زکوٰۃ باقاعدگی سے دیتا ہوں، اب میرا یہ مسئلہ ہے کہ میں ایک سیلری پرسن (تنخوادار آدمی) ہوں، جیسے کہ ہر مہینے مجھے سیلری ملتی ہے مثلاً جنوری 2017 کی سیلری (تنخواہ) لی ہے تو اس پے سال گزرا تو جنوری 2018 میں اس پے زکوٰۃ ہے ،اس طرح فروری 2017 پے فروری 2018 میں ایسا تو مشکل ہے کہ میں ہر مہینے سیلری (تنخواہ) لو اور سال گزرنے پے ہر مہینے زکوٰۃ دو۔ ما شاء اللہ میں صاحب نصاب بھی ہوں ۔ اللہ آپ کو جزائے خیر دے۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کر سائل جس اسلامی تاریخ کو نصاب زکوٰۃ کا مالک بنا ہے۔ ہر سال اسی تاریخ میں اگر وہ صاحب نصاب رہے تو موجود مال پر زکوٰۃ ادا کرنا لازم ہے۔ سال کے دوران جتنی رقم وغیرہ اس کی ملک میں آئے ہر ہر رقم کا الگ الگ حساب لگانا اس کے ذمہ شرعاً لازم نہیں، تاہم اگر سائل کو اسلامی تاریخ یاد نہ ہو تو اسے غالب اندازے کے مطابق کوئی اسلامی تاریخ متعین کر کے ہر سال اسی تاریخ کو اموال زکوٰۃ کا حساب لگا کر زکوة ادا کر دیا کرے۔

مأخَذُ الفَتوی

كما في الدر المختار: (وشرط افتراضها عقل وبلوغ وإسلام وحرية) (إلی قوله) (وسببه) أي سبب افتراضها (ملك نصاب حولي) نسبة للحول لحولانه عليه (تام) اھ (2/ 258)
و في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): (قوله: نسبة للحول) أي الحول القمري لا الشمسي كما سيأتي متنا قبيل زكاة المال (قوله: لحولانه عليه) أي لأن حولان الحول على النصاب شرط لكونه سببا اھ (2/ 259)
و في الدر المختار: (وحولها) أي الزكاة (قمري) بحر عن القنية (لا شمسي) وسيجيء الفرق في العنين. (2/ 294)
و في الفقه الإسلامي وأدلته للزحيلي: قال الحنفية (1): يضم الربح الناتج عن التجارة، والولد أو النماء في الماشية، والمال المستفاد من غير التجارة كالإرث والهبة إلى أصل رأس المال، إذا كان مالكاً للنصاب، في أول الحول الذي هو وقت انعقاد سبب إيجاب الزكاة، وبقي في أثناء الحول شيء من النصاب الذي انعقد عليه الحول، ليضم المستفاد إليه، وكان آخر الحول بمقدار النصاب، ويزكى الجميع في تمام الحول؛ لأن المستفاد من جنس الأصل وتبع له اھ (3/ 1874) والله أعلم بالصواب

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 32373کی تصدیق کریں
0     12
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات