کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر کسی کے پاس ایک تولہ سونا ہو، جس کی قیمت ساڑھے باون تولہ چاندی کےبرابر ہو، تو اس پر قربانی واجب ہے یا نہیں؟ اور اگر ایک تولہ سونابھی ہو جس کی قیمت ساڑھے باون تولہ چاندی کو پہنچتی ہو، اور ساتھ میں کچھ نقدی بھی ہو ،تو ایک تولہ سونے کے ساتھ کتنی نقدی ہوگی، جو قربانی کو واجب کرے؟ یا ساتھ میں اگر کپڑے ہو توکتنے جوڑے ہو جس کی وجہ سے قربانی واجب ہو گی، نیز یہ بھی بتائیے کہ آج کل ساڑھے باون تولہ چاند کی کیا قیمت ہے؟
(4) اگر گھر میں چند افراد ہوں اور ان میں سے کسی ایک کے پاس نصاب کے برابر نقدی ہو یا کوئی اور چیز ہو، تو سب پر قربانی واجب ہوگی، یا ایک پر پھر ایک جزء کو الگ الگ اور عام فہم انداز میں سمجھا دیں تاکہ ہر آدمی باآسانی سمجھ سکیں، قرآن وحدیث کی روشنی میں مفصل ومدلل جواب دے کر مشکور فرمائیں۔
اگر کسی کی ملکیت میں صرف سونا ہو، چاندی مال تجارت نقدی حاجت سے زائد اشیاء وغیرہ کچھ بھی نہ ہو، تو جب تک وہ ساڑھے سات تولے کے بقدر نہ ہو، اس پر زکوٰۃ واجب ہے نہ کہ قربانی۔
(3،2) ایسی صورت میں قربانی واجب ہے اسی طرح تین جوڑے کپڑوں یا ضرورت سے زائد سامان کی مالیت یا تھوڑی بہت چاندی ملانے سے اگر اس کی قیمت مذکور مقدار کو پہنچ جائے، تب بھی اس پر قربانی واجب ہوگی، پھر چونکہ سونے، چاندی کے نرخ آئے دن بدلتے رہتے ہیں، اس لیے بوقت ضرورت کسی بھی صراف سے معلوم کر کے اس کے موافق عمل کریں ، تاہم آج کل نصاب کی مالیت (9975) روپے ہے۔
(4) صرف اسی شخص پر قربانی واجب ہے جو صاحب نصاب ہو۔
کما فی الدرالمختار: (قوله واليسار إلخ) بأن ملك مائتي درهم أو عرضا يساويها غير مسكنه وثياب اللبس أو متاع يحتاجه إلى أن يذبح الأضحية الخ (6/312)۔
وفی الھندیة: (وأما) (شرائط الوجوب) : منها اليسار وهو ما يتعلق به وجوب صدقة الفطر دون ما يتعلق به وجوب الزكاة، الخ (5/292)۔
و فی رد المحتار: تحت(قوله واليسار إلخ) (الی قولہ) وصاحب الثياب الأربعة لو ساوى الرابع نصابا غنى وثلاثة فلا، لأن أحدها للبذلة والآخر للمهنة والثالث للجمع والوفد والأعياد، الخ (6/312)۔