زکوۃ و نصاب زکوۃ

زکوٰۃ کی فرضیت ساقط کرنے کے کچھ سونا بیٹی کو ہبہ کرنا

فتوی نمبر :
30829
| تاریخ :
عبادات / زکوۃ و صدقات / زکوۃ و نصاب زکوۃ

زکوٰۃ کی فرضیت ساقط کرنے کے کچھ سونا بیٹی کو ہبہ کرنا

میں ایک غریب خاتون خانہ ہوں میرے پاس دس تولہ سونا ہے۔ میرا شوہر زکوٰۃ ادا کرنے میں میری مدد نہیں کرتا ہے میں زکوٰۃ ادا کرنے کی اہل نہیں ہوں اپنے جیب خرچ سے. میری ایک بیٹی ہےتو کیا میں اپنی بیٹی کو سونے کا مالک بنا کر زکوٰۃ کی ادائیگی سے بچ سکتی ہوں؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورتِ مسئولہ میں مذکور سونا بقدر نصاب ہونے کی وجہ سے سائلہ پر اس کی زکوۃ لازم ہے، تاہم سائلہ اگر اس میں سے اتنی مقدار اپنی بیٹی وغیرہ یا کسی کو ہبہ اور (گفٹ ) کر دے جس سے وہ بقدر نصاب نہ رہے تو اس پر زکوۃ فرض نہیں رہے گی۔

مأخَذُ الفَتوی

كما في أحكام القرآن للجصاص: وأيضا لم يختلفوا أن الحلي إذا كان في ملك الرجل تجب فيه الزكاة فكذلك إذا كان في ملك المرأة كالدراهم والدنانير وأيضا لا يختلف حكم الرجل والمرأة فيما يلزمهما من الزكاة فوجب أن لا يختلفا في الحلي اھ (4/ 304)
كما فى حاشية ابن عابدين (رد المحتار): (قوله: بعد الحول) (إلی قوله) وإذا فعله حيلة لدفع الوجوب كأن استبدل نصاب السائمة بآخر أو أخرجه عن ملكه ثم أدخله فيه، قال أبو يوسف لا يكره؛ لأنه امتناع عن الوجوب لا إبطال حق الغير. و في المحيط أنه الأصح. وقال محمد: يكره اھ (2/ 284)
كما في حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح: قوله: "ويجيز أبو يوسف الحيلة الخ" قال في البحر إعلم أنه لو وهب النصاب في خلال الحول ثم تم الحول وهو عند الموهوب له ثم رجع للواهب بعد الحول بقضاء أو بغيره فلا زكاة على واحد منهما كما في الخانية وهي من حيل إسقاط الزكاة قبل الوجوب و في المعراج ولو باع السوائم قبل تمام الحول بيوم فرارا عن الوجوب قال محمد يكره وقال أبو يوسف لا يكره وهو الأصح اھ (ص: 718) واللہ اعلم بالصواب

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 30829کی تصدیق کریں
0     6
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات