زکوۃ و نصاب زکوۃ

میاں ،بیوی کا جو علیحدہ علیحدہ مال ہے، زکوۃ میں ہر ایک اپنے مال کا الگ سے حساب کرے گا یا مجموعی رقم ملاکر زکوۃ ادا کی جائے گی ؟

فتوی نمبر :
30510
| تاریخ :
عبادات / زکوۃ و صدقات / زکوۃ و نصاب زکوۃ

میاں ،بیوی کا جو علیحدہ علیحدہ مال ہے، زکوۃ میں ہر ایک اپنے مال کا الگ سے حساب کرے گا یا مجموعی رقم ملاکر زکوۃ ادا کی جائے گی ؟

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب کچھ سونا اور پیسے میری بیوی کے پاس ہے اور کچھ پیسے میرے پاس ، تو اس کی زکوٰۃ کس طرح دیں گے؟ مثال میرے بیوی کے پاس اس وقت تین تولہ سونا اور پچاس ہزار روپے ہے ، اور میرے پاس تین لاکھ روپے ہے ، تو زکوٰۃ کا حساب سب ملا کر اداکریں، یا الگ الگ ؟ مہربانی فرماکر سادہ الفاظ میں راہ نمائی فرمائیں!

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

بیوی اپنے پاس موجود سونے اور پچاس ہزار روپے کی الگ زکوٰۃ ادا کرے گی، اور سائل اپنے پاس موجود تین لاکھ روپے اور دیگر اموال کی الگ سے ۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 30510کی تصدیق کریں
0     14
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات