زید اپنی گلی میں کھڑا تھا تو ایک جانور جو کہ کسی کا تھاوہ بھاگ کر آگیا اور زید نے بڑی تگ و دو کے بعد اس کو پکڑ لیا اس کے بعد اس نے جانور کے اصلی مالک کو ڈھونڈ نا شروع کر دیا مگر وہ نہیں ملا ، کیا یہ جانور زید پر حلال ہے ؟ اور اگر مالک عید سے پہلے نہیں ملتا تو کیا اس جانور کو بیچ سکتے ہیں یا نہیں ؟
صورت مسئولہ میں مذکور جانور سائل کے پاس لقطہ اور امانت ہے، جس کا حکم یہ ہے کہ مالک کی حتی الوسع تلاش اور جانور کی گمشدگی کی ممکنہ تشہیر کے بعد بھی اگر مالک نہ ملے تو اس کو بیچ کر اس کے پیسے یا بذات خود وہ جانور کسی فقیر مستحق کو مالک کی طرف سے بہ نیت ثواب دیدے اور خود مستحق ہو تو اسے بھی استعمال کی گنجائش ہے، تاہم اگر صدقہ کرنے کے بعد مالک آجائے اور مطالبہ کرے تو سائل کو اپنی جیب سے قیمت ادا کرنی ہوگی۔
كما في الهداية شرح البداية: قال ويجوز الالتقاط في الشاة والبقر والبعير (الى قوله) وينبغي أن يعرفها في الموضع الذي أصابها اھ (2/ 176)
و في الفتاوى الهندية: إن كان الملتقط محتاجا فله أن يصرف اللقطة إلى نفسه بعد التعريف كذا في المحيط وإن كان الملتقط غنيا لا يصرفها إلى نفسه بل يتصدق على أجنبي أو أبويه أو ولده أو زوجته إذا كانوا فقراء كذا في الكافي اھ (2/ 291)۔
گمشدہ جانور اگر کسی کو مل جائے تو اسے فروخت کرکے رقم اپنے استعمال میں لائی جاسکتی ہے؟
یونیکوڈ گمشدہ و متروکہ مال 0