زکوۃ و نصاب زکوۃ

کاروبار میں لوگوں کو دیئے جانے والے قرض کی زکوۃ کیسے ادا کی جائے؟

فتوی نمبر :
27260
| تاریخ :
عبادات / زکوۃ و صدقات / زکوۃ و نصاب زکوۃ

کاروبار میں لوگوں کو دیئے جانے والے قرض کی زکوۃ کیسے ادا کی جائے؟

زکوٰۃ ادا کرنے کا بہترین طریقہ کون سا ہے؟ میرے نقد پیسے ہر وقت آتے جاتے رہتے ہیں، میں اپنے جاننے والوں کو قرض دیتا ہوں، کیا میں ان نقود کا حساب لگاؤں جنہیں وصول کیا جاسکتا ہو اور پھر زکوٰۃ ادا کروں یا جس رقم کو قبضہ میں لوں صرف اس کا حساب لگا کر زکوٰۃ ادا کروں؟
میرے والد نے میرا عقیقہ نہیں کیا، کیونکہ ہماری مالی حیثیت اس وقت درست نہیں تھی، میرا سوال یہ ہے کہ کیا میں اپنی طرف سے اپنا خود کا عقیقہ کر سکتا ہوں، میری 25 سال عمر ہے، اور کیا میں قربانی میں عقیقہ کر سکتا ہوں، کیا میں اپنے بھائی کا عقیقہ کر سکتا ہوں، عقیقہ کے لیے کتنی رقم ہونا ضروری ہے، اور اس کا بہترین طریقہ کیا ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

لوگوں کے ذمہ سائل کا جو قرضہ ہے اس میں بھی زکوٰۃ فرض ہے ،البتہ اتنا اختیار ہے کہ وصول ہونے کے بعد گزشتہ سالوں کی بھی زکوٰۃ دیدے۔ اور اگر چاہے تو موجودہ نصاب کے ساتھ لوگوں کے ذمہ قرض کی زکوٰۃ بھی ساتھ ادا کر دے، جبکہ سائل چاہے تو اپنا اور بھائی کا عقیقہ اب بھی کر سکتا ہے اور اگر چاہے تو قربانی کے ایام میں قربانی کے بڑے جانور میں حصہ ڈال کر بھی عقیقہ ادا کر سکتا ہے تاہم عقیقہ فرض واجب نہیں ،بلکہ یہ صاحب استطاعت لوگوں کے حق میں مستحب ہے ۔

مأخَذُ الفَتوی

كما في الدر المختار: (و) اعلم أن الديون عند الإمام ثلاثة: قوي، ومتوسط، وضعيف؛ (فتجب) زكاتها إذا تم نصابا وحال الحول، لكن لا فورا بل (عند قبض أربعين درهما من الدين) القوي كقرض اھ (2/ 305)
و في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): يستحب لمن ولد له ولد أن يسميه يوم أسبوعه ويحلق رأسه ويتصدق عند الأئمة الثلاثة بزنة شعره فضة أو ذهبا ثم يعق عند الحلق عقيقة إباحة على ما في الجامع المحبوبي (6/ 336)
وفيه أیضا: الجواز مع العقيقة بما قالوا من أن وجوب الأضحية نسخ كل دم كان قبلها من العقيقة والرجبية والعتيرة اھ (6/ 326) واللہ اعلم بالصواب

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 27260کی تصدیق کریں
0     14
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات