میرے والد نے ایک جگہ بزنس میں 45 لاکھ روپے لگائے ہیں، اور انہیں تقریباً سالانہ 2 لاکھ روپے نفع ملتا ہے، اور میرے والد کے پاس 10 لاکھ روپے مزید ہیں ، جنہیں انہوں نے کسی کاروبار میں نہیں لگایا، یہ میرے والد کے پاس کل مالیت ہے،تو سوال یہ ہے کہ وہ اس پر کس صورت میں زکوٰۃ ادا کریں گے؟ تفصیلی طور پر آگاہ کریں، اللہ آپ کو جنت الفردوس میں اعلی مقام نصیب فرمائیں۔
زکوٰۃ کی تاریخ میں سائل کے والد کی ملکیت میں مال تجارت اور اپنے پاس موجود دس لاکھ روپے سمیت تمام اموال زکوٰۃ جیسے سونا چاندی وغیرہ، پر ڈھائی فیصد کے حساب سے زکوٰۃ اداء کرنا لازم ہے۔
کما فی البحر الرائق: (قوله: وفي عروض تجارة بلغت نصاب ورق أو ذهب) معطوف على قوله أول الباب في مائتي درهم أي يجب ربع العشر في عروض التجارة إذا بلغت نصابا من أحدهما، الخ (2/245)۔
و فی الدرالمختار: (وشرط كمال النصاب) ولو سائمة (في طرفي الحول) في الابتداء للانعقاد وفي الانتهاء للوجوب (فلا يضر نقصانه بينهما) فلو هلك كله بطل الحول.الخ (2/302)۔
و فیہ ایضاً: (والمستفاد) ولو بهبة أو إرث (وسط الحول يضم إلى نصاب من جنسه) فيزكيه بحول الأصل،الخ (2/288)۔