زکوۃ و نصاب زکوۃ

ہوٹل کی ماہانہ آمدن پر زکوٰۃ کا حکم

فتوی نمبر :
26700
| تاریخ :
عبادات / زکوۃ و صدقات / زکوۃ و نصاب زکوۃ

ہوٹل کی ماہانہ آمدن پر زکوٰۃ کا حکم

میرا ہوٹل کا بزنس ہے جس سے مجھے ماہانہ140000 روپے کی آمدن ہوتی ہے، جس میں سے میں اپنے گھر کا خرچ وغیرہ پوراکرتا ہوں؟ اس آمدن میں میرے پاس گھر کے اخراجات وغیرہ نکال کر کبھی کچھ پیسے بچ جاتے ہیں اور کبھی نہیں ، میں نے حدیث اور فقہ کی روسے یہ پوچھنا ہے کہ میں اس آمدن پر زکوٰۃ نکالوں گا یا نہیں؟ اور اگر نکالوں گا تو کتنی اور کس کو دوں گا؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

اگر یہ رقم اور سائل کی ملکیت میں موجود سونا چاندی یا مال تجارت سب کا مجبوعہ ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت تک پہنچتا ہو، اور یہ قرض سے زائد ہو، تو ایسی صورت میں زکوٰۃ کا سال پورا ہونے کے بعد سائل پر ڈھائی فیصد کے حساب سے زکوٰۃ کی ادائیگی لازم ہوگی۔
جبکہ زکوٰۃ اپنے اصول وفروع، میاں بیوی کا آپس میں ایک دوسرے کو اس طرح مالدار اور سید کو نہیں دی جاسکتی ، اس کے علاوہ فقراء ومساکین مقروض اور مستحق وضرورت مند لوگوں کو دی جاسکتی ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی تنویر الابصار: (وسببه) أي سبب افتراضها (ملك نصاب حولي تام فارغ عن دين له مطالب من جهة العباد و عن حاجته الأصلية الخ (2/259)۔
وفی ردالمحتار: تحت (قوله: وإلى من بينهما ولاد) أي بينه وبين المدفوع إليه؛ لأن منافع الأملاك بينهم متصلة فلا يتحقق التمليك على الكمال الخ (2/346)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
شفیع اللہ عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 26700کی تصدیق کریں
0     10
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات