السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ وبعد!
ایران میں ایک فلاحی ادارہ ہے جو یتیم بچوں کی کفالت کرتا ہے، یہ نہیں معلوم کہ شیعہ ہے یاسنی؟ کیا اس ادارے کو پاکستان سے زکوٰۃ بھیجنا جائز ہے؟ اور اگر زکوٰۃ دید ی اس ادارہ کو تو زکوٰۃ ادا ہو جاتی ہے کہ نہیں ؟ برائے مہربانی اس کا جواب اسی ای میل پر ارسال کریں۔ شکر یہ
مذکور ادارہ اور اس کے طریقہ کار کے بارے میں ہمیں معلومات نہیں ، تاہم سائل کو چاہیے کہ اولاً تو اپنے ہی ملک کے ہی مستحقین یا ایسے رفاہی ادارہ کو زکوٰۃ دے جو زکوٰۃ کو اپنے مصارف میں خرچ کرتا ہو، اور اگر بیرون ملک ہی دینا ہو تو تحقیق کے بعد دے ، بلا وجہ اپنی زکوٰۃ داؤ پر نہ لگائے ۔
ففي الفتاوى الهندية: ويكره نقل الزكاة من بلد إلى بلد إلا أن ينقلها الإنسان إلى قرابته أو إلى قوم هم أحوج إليها من أهل بلده ولو نقل إلى غيرهم أجزأه وإن كان مكروها اھ (1/ 190)
و في الهندية أيضًا : وإذا دفعها إليه وهو شاك ولم يتحر أو تحرى ولم يظهر له أنه مصرف أو غلب على ظنه أنه ليس بمصرف فهو على الفساد إلا إذا تبين أنه مصرف هكذا في التبيين اھ (1/ 190)